Loading...

بریگزٹ: تھریسا مے کا لیبر پارٹی سے رجوع کا فیصلہ

0

بریگزٹ کے مسئلے پر کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچنے کے باعث برطانوی وزیر اعظم نے لیبر پارٹی کے اہم رہنما جیرمی کوربن سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اب تک تین تجاویز ایوان میں پیش کر چکی ہیں جو یکے بعد دیگرے مسترد ہو گئیں۔ ان کی اپنی کنزرویٹو پارٹی میں بھی اس معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے کسی قابل عمل حل تک پہنچنے کے لئے اب لیبر پارٹی کے اہم رہنما سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ملاقات بدھ کو متوقع ہے۔ تھریسا مے کے اس اقدام سے ان کی پارٹی کے اندر اختلافات میں اضافہ ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

علیحدگی کے فارمولے کے تحت گزشتہ جمعہ کو برطانیہ نے یورپی یونین سے الگ ہونا تھا جس کا فیصلہ تین سال قبل رائے شماری کے ذریعے ہوا تھا۔ تاہم یہ علیحدگی کن شرائط پر ہو گی، یہ معاملہ ابھی تک حل طلب ہے، جس کے لئے 12 اپریل تک کی مہلت ہے۔

تھریسا مے نے لیبر پارٹی سے رابطے کا اعلان کیا ہے جو یورپی یونین سے مکمل علیحدگی کی بجائے مشترکہ کسٹم یونین کی حد تک تعلق رکھنے کی حامی ہے۔

وزیر اعظم تھریسا مے بریگزٹ کے معاملے پر متعدد تجاویز برطانوی پارلیمینٹ میں پیش کر چکی ہیں جنہیں اب تک مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کے بہت سے اراکین اس معاملے پر برطانوی وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

بریگزٹ ہے کیا؟

23 جون 2016 کو برطانیہ میں ہونے والے ایک ریفرنڈم کے نتیجے میں 52 فی صد برطانوی شہریوں نے یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں رائے دی تھی۔ یہ مسئلہ کئی سال سے برطانیہ میں زیر بحث تھا۔ برطانیہ میں ایک طبقے کی رائے تھی کہ یورپی یونین کے ساتھ الحاق برقرار رکھنا ملک کے مفاد میں ہے جبکہ دوسرے گروپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہونے میں زیادہ فائدہ ہے۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے عمل کے لئے دو سال کی مدت مقرر کی گئی تھی جو 29 مارچ 2019 کو ختم ہو گئی۔ بعد ازاں اس میں 12 اپریل تک کی توسیع کر دی گئی۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی یورپی یونین سے مکمل طور پر علیحدگی کی بجائے جزوی طور پر الگ ہونے کی حامی ہے۔ اس کے مطابق بعض تجارتی معاملات پر مضبوط یورپی بلاک کے ساتھ منسلک رہنا برطانیہ کے مفاد میں ہے۔

یورپی یونین سے برطانوی انخلا کی شرائط کیا ہوں گی؟ یہ معاملہ تاحال حل طلب ہے۔ اس مسئلے پر برطانیہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ کچھ اراکین پارلیمینٹ نے تنازع کو حل نہ کرنے پر برطانوی وزیر اعظم کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...