Loading...

ایک اہم ایشیائی ملک میں شرعی قوانین نافذ ،نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کی سزا موت ، اس کا اطلاق غیر مسلموں سمیت مسلمانوں پر بھی ہو گا

0

ایشیائی ملک برونائی نے سیاستدانوں، مشہور شخصیات اور انسانی حقوق کے گروپس کی جانب سے عالمی تنقید کے باوجود ملک میں سخت شرعی قوانین متعارف کردئیے جس کے تحت زنا اور ہم جنس پرستی میں ملوث افراد کو سنگسار کی سزا دی جائے گی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹروپیکل برنیو جزیرے پر واقع اس چھوٹے سے ملک پر طاقتور سلطان حسن البلقیہ کی حکمرانی ہے اور یہ نئی پینل کوڈ (تعزیرات) کئی برسوں کی تاخیر کے بعد نافذ ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ

سنگسار کی سزا میں مجرم کو زمین میں دھڑ تک گاڑ کر اس وقت تک پتھر مارے جاتے ہیں جب تک وہ مر نہیں جاتا۔ان قوانین میں چوروں کے لیے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کی سزا بھی شامل ہے جس کے بعد برونائی مشرقی

یا جنوب مشرقی ایشیا میں پہلا ملک بن گیا ہے جہاں قومی سطح پر شرعی تعزیزات کو نافذ کیا گیا، جو زیادہ تر سعودی عرب جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں موجود ہیں۔مختلف نئے قوانین اور تعزیزات کے تحت ریپ اور ڈکیتی کی سزا بھی موت ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سزا موت ہے جو تمام غیر مسلم سمیت مسلمانوں پر بھی لاگو ہوگی۔علاوہ ازیں مسلم کلینڈر میں خصوصی تاریخ کے دن کے طور پر ایک عوام سے خطاب میں سلطان حسن البلقیہ نے اسلامی تعلیمات کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔دارالحکومت بندر سیری بیگاوان کے قریب کنویشن سینٹر میں خطاب میں انہوں نے کہا کہ

 میں اس ملک میں اسلامی تعلیمات کو مضبوط ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں،5 دہائیوں سے زائد عرصے سے راج کرنے والے سلطان حسن البلقیہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برونائی ایک منصفانہ ملک ہے اور یہاں آنے والوں کیلئے ماحول پرامن اور ہم آہنگ ہے۔نئی پینل کوڈ کے نافذ العمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے وزارت مذہبی امور کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم ہاؤس سے گزشتہ ہفتے (کوڈ) پر عملدرآمد کے لیے اعلامیہ جاری ہوا تھا، اس وجہ سے (3 اپریل) ان کی عملدرآمد کی تاریخ کا دن ہے۔ایک اور حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی کہ ان قوانین کا اطلاق ہوگیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...