Loading...

افغانستان: شدت پسندوں کے حملوں میں سات پولیس اہلکار اور تین شہری ہلاک

0

افغانستان میں ہفتے کے روز کئی دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں کم از کم سات پولیس اہلکار اور تین شہری ہلاک ہوئے۔

اہل کاروں نے بتایا ہے کہ مشرقی صوبہ غزنی میں طالبان سرکشوں نے سیکورٹی کی چوکیوں پر حملے کیے، جن میں پولیس کے تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ صوبائی پولیس کے ترجمان، احمد خان سیرت نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ طالبان نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

شمالی صوبہ سرائے پل میں طالبان نےسیکورٹی کی چوکیوں پر دھاوا بول دیا جس دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ بات صوبائی کونسل کے رہنما، محمد نور رحمانی نے بتائی ہے۔

ادھر صوبائی گورنر کے ترجمان، عطااللہ خوگیانی نے بتایا ہے کہ مشرقی صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد میں دو دھماکے ہوئے، جن میں کم از کم تین شہری ہلاک ہوئے۔

ننگرہار اور سرائے پل میں ہونے والے حملوں کی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سال 2015 میں داعش نے ننگرہار میں پیر جمائے۔ جاری امن مذاکرات کے معاملے پر حالیہ ہفتوں کے دوران مختلف شدت پسند گروپوں کے مابین لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔ جب کہ طالبان اور افغان افواج کے درمیان جھڑپوں میں بھی شدت آگئی ہے۔

امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اسی ہفتے کابل میں تھے، جنھوں نے بات چیت کے حق میں کوششیں کیں، جس میں سرکردہ افغان شخصیات، سرکاری اہلکار، طالبان اور دیگر مخالف نمائندگان شامل ہوں گے۔ خلیل زاد نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے متعدد دور ہوئے، جس دوران بات چیت میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔

مذاکرات کے باوجود، طالبان نے افغان افواج پر حملے جاری رکھے ہیں اور افغان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کر رکھا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ محض امریکی کٹھ پتلی ہے۔

ہفتے ہی کے روز، پوپ فرینسس نے افغانستان کےساتھ ساتھ شام اور یمن کے تنازعے کو بھڑکانے کا الزام امریکہ اور یورپ پر دیا ہے، جو لڑائی کے شکار ان علاقوں کو اسلحہ فروخت کر رہے ہیں۔

پوپ نے میلان کے ‘سان کارلو انسٹی ٹیوٹ’ میں طالب علموں اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کئی لڑائیاں ہو رہی ہیں، چونکہ ”امیر یورپ اور امریکہ ہتھیار بیچ رہے ہیں، جن کے استعمال سے بچے اور افراد ہلاک ہو رہے ہیں”۔

انھوں نے مزید کہا کہ ”وہ ملک جو ہتھیار بناتا اور فروخت کرتا ہے بچوں کی ہلاکت اور خاندان کی تباہی کا بوجھ اسی کے سر پر ہے”۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...