Loading...

دنیا بھر سے منتخب دس کامیاب کاروباری خواتین کا امریکہ میں تربیتی پروگرام

0

گزشتہ دنوں واشنگٹن ڈی سی میں قائم ورلڈ اکنامک آرڈر فورم کے پلیٹ فارم سے جرمنی کے ایک ادارے نے دنیا بھر کے دس ملکوں سے دس کامیاب کاروباری خواتین کو منتخب کرکے شکاگو اور واشنگٹن ڈی سی میں ان کے لیےایک فیلو شپ کا اہتمام کیا۔ اس فیلو شپ کا عنوان تھا: A seat at the table, female entrepreneurship and economic empowerment.۔

اس فیلو شپ میں جرمنی، ترکی، جارجیا، یونان، مراکش، لاطینی امریکہ، ہنڈراس، کمبوڈیا، بھارت اور پاکستان سے خواتین منتخب ہوئیں۔ پاکستان سے سماجی بھلائی کے ایک کاروباری ادارے کیف کام کی فاؤنڈر ڈاکٹر رخشندہ پروین کو چنا گیا۔

واشنگٹن ڈی سی میں اپنی فیلو شپ کے دوران وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر رخشندہ پروین نے اس پروگرام کی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے پر محیط اس تربیتی پروگرام میں انہوں نے واشنگٹن ڈی سی اور شکاگو کے بہت سے اسٹارٹ اپس دیکھے، کو ورکنگ اسپیسز دیکھے، کامیاب بزنس دیکھے جن میں سے بیشتر کی بانی خواتین تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکہ میں کاروبار کے نئے انداز اور رجحانات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کورس کےدوران انہوں نے دیکھا کہ امریکہ میں بھی اس بارے میں بہت زیادہ کام ہو رہا ہے اور یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ خواتین کو سوشل انٹری پرینیورشپ اور کاروباری شعبے میں لانا اور انہیں اس کے لیے مدد فراہم کرنا اور اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ انہوں نےاپنی فیلو شپ کے دوران یہ بھی سیکھا کہ امریکہ میں خواتین اور اقلیتی گروپس اور تارکین وطن کےلیے بزنس کے کیا مواقع موجود ہیں۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین نے کہا کہ اپنی فیلو شپ کے دوران انہیں یہ جائزہ لینے کا بھی موقع ملا کہ کاروباری خواتین اور کاروباری مردوں کے کام کے انداز اور سوچ میں کیا فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے انہیں یہ سمجھنے کا بھی موقع فراہم کیا کہ پاکستان اور امریکہ کی کاروباری خواتین کے کاروباری انداز میں کیا کچھ مشترک اور کیا مختلف ہے۔ مثلاً انہیں اندازہ ہوا کہ دونوں ہی ملکوں کی خواتین کی کچھ خصوصیات بہت ملتی جلتی ہیں، مثلاً یہ کہ دونوں معاشروں میں کیوں کہ خواتین پر گھر کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اس لیے انہیں اپنی زندگی میں مردوں کی نسبت بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور یہ کہ خصوصی طور پر سوشل انٹری پرینیور خواتین، سوشل انٹری پرینیور مردوں کی نسبت زیادہ محنت اور زیادہ جذبے سے کام کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری خصوصیت جو انہوں نے دونوں ملکوں کی خواتین میں مشترک دیکھی وہ یہ تھی کہ وہ دونوں ہی پیسوں کی نسبت مقصد سے زیادہ وابستہ ہوتی ہیں۔ اس لیے وہ کاروبار کرتے ہوئےمردوں کی طرح زیادہ بھاؤ تاؤ یا گفت و شنید نہیں کرتیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے کئے گئے سودوں میں پیسوں کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین نے کہا کہ اس فیلو شپ نے جو خواتین کی معاشی خود مختاری پر مرکوز رہی، انہیں یہ سکھایا کہ خواتین کو کاروباری دنیا میں لانے کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری صرف ایک خاتون کی ہی نہیں بلکہ ایک پوری کمیونٹی بلکہ آنے والی کئی نسلوں کی زندگیاں سنوارنے کا سبب بنتی ہے۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین ایک سیریل انٹری پرینیور ہیں جو اسلام آباد میں، کو ورکنگ اسپیس سے متعلق سماجی بھلائی کے کاروباری ادارے، کیف کام، یعنی کام کا مزہ نامی ایک ادارے کی فاؤنڈر ہیں۔ یہ ادارہ ان خواتین کو کام کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے اور انہیں معاشی طور پر خود مختار بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے جو کسی بھی طرح کی جسمانی، یا معاشرتی معذوری کا شکار ہیں، یعنی بیوہ ہیں، طلاق شدہ ہیں، شوہروں سے علیحدہ ہو چکی ہیں یا، کسی بھی معذوری یا معاشرتی یا مالی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہوئی اور اکیلی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کے لیے ویمن چیمبر آف کامرس قائم کیا ہے جو اپنی نوعیت کا واحد چیمبر آف کامرس ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...