Loading...

بھارت میں پہلے انتخابی مرحلے کے لیے ووٹنگ جمعرات کو ہوگی

0

بھارت میں دنیا کے سب سے بڑے انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعرات کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ان انتخابات کو ”جمہوریت کا میلہ” قرار دیا ہے۔

پہلے مرحلے میں جن ریاستوں میں ووٹنگ ہوگی ان میں آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر، مہاراشٹر، میزورم، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اڑیسہ، سکم، تلنگانہ، تری پورا، اترپردیش، اترا کھنڈ، مغربی بنگال، جزیرہ انڈمان نکوبار اور لکش دیپ شامل ہیں۔

گیارہ اپریل سے 19 مئی تک سات مرحلوں میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے راجستھان کے صحراؤں اور جزیرہ انڈمان تک تقریباً 90 کروڑ ووٹرز اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا اس مرتبہ گاندھی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک نہیں بلکہ دو افراد سے مقابلہ ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کے ساتھ ساتھ ان کی بہن پریانکا گاندھی بھی سیاسی میدان میں قدم رکھ چکی ہیں۔

ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے انتخابات میں ایک ارب 30 کروڑ آبادی پر مشتمل بھارت بھر میں ہزاروں سیاسی جماعتیں اور امیدوار لوک سبھا کی 543 نشستوں پر مدِ مقابل ہوں گے۔

انتخابات کے سلسلے میں شہروں اور دیہات سے لے کر دور دراز علاقوں تک ووٹنگ مشینیں پہنچادی گئی ہیں۔

نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014ء کے انتخابات میں واضح برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ 1984ء میں راجیو گاندھی کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ کانگریس کے موجودہ صدر 48 سالہ راہول گاندھی اس مرتبہ خاصے پرامید ہیں کہ وہ ملک کے نئے وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔

بھارت کی کم از کم نو ریاستوں میں جاری علیحدگی پسند تحریکوں کے باعث انتخابات میں تشدد کا خدشہ ہے کیوں کہ 2014ء میں بھی انتخابی عمل کے دوران 100 سے زائد افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں پارٹی کارکن اور رہنما بھی شامل تھے۔

اس بار بھی انتخابات سے دو روز قبل یعنی منگل کو ایک سیاسی رہنما سمیت سات افراد کے پرتشدد واقعات میں مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق واقعات کی بنیادی وجہ بی جے پی کی گئو رکھشک (گائے کی حفاظتی) مہم بھی ہے جس کے تحت بعض متشدد افراد کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ گائے ذبح کرنے کے الزامات پر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کشیدگی کی ایک اور وجہ کچھ اہم شخصیات سے موسوم شہروں کے ناموں کی تبدیلی ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے درسی کتب میں شامل مضامین تک تبدیل کیے جس کی وجہ سے مخالفت اور معاشرے میں کشیدگی بڑھی اور اقلیتی ووٹرز حکمراں جماعت سے بدظن ہوئے۔

انتخابی سامان کی ترسیل کا ایک اور منظر

انتخابی سامان کی ترسیل کا ایک اور منظر

کانگریس نے ووٹرز کی اسی بی جے پی مخالف سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دسمبر میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں واضح برتری حاصل کی تھی۔

نریندر مودی نے ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اب خود کو بھارت کا ‘چوکیدار’ کہا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنا ٹوئٹر ہینڈل بھی تبدیل کرکے ‘چوکیدار نریندر مودی’ کرلیا ہے۔ ٹوئٹر پر مودی کے 4 کروڑ 68 لاکھ فالوورز ہیں۔

انتخابات میں بڑے پیمانے پر پرتشدد واقعات کا خدشہ ہے۔ جس کی جھلک گزشتہ روز ریاست چھتیس گڑھ میں نظر آئی جہاں ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے۔

بی جے پی رہنما بھیما منداوی کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی انتخابی مہم کے بعد واپس آرہے تھے۔

دوسرا واقعہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کشتواڑ میں پیش آیا جہاں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی گروہ کے رہنما چندرا کانت شرما کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

واقعے کے بعد حکام نے کشتواڑ میں غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...