Loading...

بلیک ہول کی پہلی تصویر سے ایسٹرو فزکس کے ایک نئے دور کی شروعات

0

بدھ کے روز ایک بین الاقوامی سائنسی ٹیم نے فلکی طبیعات میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک بلیک ہول کا اولین فوٹو جاری کر دیا ہے۔ اس ٹیم نے ٹیلی اسکوپس کا ایک گلوبل نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ آیا کشش ثقل کےحامل اجرام فلکی سے روشنی گزر سکتی ہے یا نہیں؟

یہ ریسرچ ایونٹ ہورائیزن ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے تحت انجام پائی، جو 2012 میں شروع ہونے والا بین الاقوامی تعاون کا وہ نیٹ ورک ہے جس کا مقصد زمین پر قائم ٹیلی اسکوپس کے ایک گلوبل نیٹ ورک کے استعمال سے ایک بلیک ہول کے بالکل قریبی ماحول کے براہ راست مشاہدے کی کوشش تھا۔ یہ اعلان واشنگٹن، برسلز، سینٹیاگو، شنگھائی، تائپے اور ٹوکیو میں بیک وقت ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کیا گیا۔

سائنسی ٹیم نے کہکشاں، ورگو کے کلسٹر کے قریب ایک بہت بڑی کہکشاں، Messier 87 کے مرکز میں واقع بلیک ہول کا مشاہدہ کیا۔ ان کے مشاہدے سے طبیعات دان البرٹ آئن اسٹائن کے 1915 میں پیش کئے گئے نظریہ اضافت کو بھر پور تقویت ملی جس میں انہوں نے کشش ثقل اور دوسری قدرتی فورسز سے اس کے تعلق کے قوانین کی وضاحت کی تھی۔

ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کے سنٹر فار ایسٹرو فزکس کے ڈائریکٹر، ماہر اجرام فلکی، شیپرڈ ڈوئل مین نے کہا کہ ہم نے وہ کچھ حاصل کر لیا ہے جسے صرف ایک نسل پہلے تک ناممکن خیال کیا جاتا تھا۔

یہ بلیک ہول زمین سے لگ بھگ 54 ملین نوری سال کی دوری پر ہے۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جسے روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، یعنی 5.9 ٹریلین میل۔

یو ایس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر فرانس کورڈووا نے کہا ہے کہ یہ فلکی طبیعات میں ایک اہم دن ہے۔ ہم ناقابل دید کی دید حاصل کر رہے ہیں۔

یہ حقیقت کہ بلیک ہولز روشنی کو گزرنے کی اجازت نہیں دیتے انہیں دیکھنا دشوار بناتی ہے۔ سائنسدان ایونٹ ہورائیزن کے کنارے پر ایک تاریک علاقے کے گرد جو اصل بلیک ہول کی نمائندگی کرتا ہے، انتہائی تیز رفتاری سے گھومتی ہوئی تابکاری شعاعوں یا روشنی کے ایک ہالےکو دیکھ رہے ہیں۔ یہ بلیک ہول کے سائے یا خاکے کے طور پر معروف ہے۔

یونیورسٹی آف ایری زونا میں ای ایچ ٹی پراجیکٹ کےسائنس دان، ماہر اجرام فلکی ​ڈمیٹریئس سالٹس نے کہا ہے کہ اس سائے کا حجم اور ساخت آئن اسٹائن کے عمومی نظریہ اضافت کی پیش گوئی سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہے جس سے اس سو سالہ پرانے نظریے پر ہمارا اعتماد بڑھ رہا ہے۔

کسی بلیک ہول کی تصویر بنانا ہماری اس کوشش کی محض شروعات ہے جس کے تحت ہم ایسے نئے آلات بنا رہے ہیں جن کی مدد سے ہم قدرت کی طرف سے دیے گئے بڑے پیمانے کے پیچیدہ مواد کو سمجھ سکیں گے۔

پراجیکٹ کے محققین نے پہلا مواد اپریل 2017 میں امریکی ریاست ایری زونا اور ہوائی کے ساتھ ساتھ میکسیکو، چلی، اسپین اور انٹارکٹکا میں ٹیلی اسکوپس کے استعمال سے حاصل کیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...