Loading...

سعودی حکومت سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا، خشوگی خاندان

0

ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل ہونےوالے صحافی جمال خشوگی کے اہلِ خانہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کے اور سعودی حکومت کے درمیان عدالت سے بالا بالا کوئی سمجھوتہ ہوگیا ہے۔

جمال خشوگی کے بیٹے صلاح خشوگی نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ فی الوقت ان کے والد کے قتل کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور مقدمے سے ہٹ کر کسی سمجھوتے پر نہ تو کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہو رہی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے یکم اپریل کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ صلاح خشوگی سمیت جمال خشوگی کے دیگر بچوں کو سعودی حکومت نے لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر دیے ہیں جب کہ انہیں ماہانہ ہزاروں ڈالر کا وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔

اپنی رپورٹ میں واشنگٹن پوسٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ خشوگی کے چار بچوں کو رقم اور مراعات کی فراہمی خشوگی خاندان اور سعودی حکومت کے درمیان طے پانے والے اس سمجھوتے کا حصہ ہے جس کا مقصد خشوگی کے اہلِ خانہ کو قتل کے معاملے پر سرِ عام بیان بازی سے باز رکھنا ہے۔

لیکن سعودی حکومت کے ساتھ کسی سمجھوتے کی تردید کرنے کے باوجود ٹوئٹر پر جاری بیان میں صلاح خشوگی نے سعودی فرمانروا یا ولی عہد کی جانب سے کسی زرِ تلافی کی ادائیگی کی کھل کر تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد نے گزشتہ سال ریاض میں جمال خشوگی کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت کا اظہار بھی کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

بیان میں جمال خشوگی کے اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ سعودی قیادت کی جانب سے “سخاوت اور انسانیت پر مبنی اقدامات ان کی اخلاقی برتری کا مظہر ہیں اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اس اسکینڈل میں اپنی ذمہ داری تسلیم کرتے ہیں۔”

امریکہ میں مقیم جمال خشوگی واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھا کرتے تھے اور سعودی حکومت خصوصاً ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سخت ناقد تھے۔

وہ گزشتہ سال اکتوبر میں اپنی دوسری شادی سے متعلق بعض دستاویزات کے حصول کے لیے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے اور لاپتا ہوگئے تھے۔

کئی ہفتوں کی تحقیقات، مظاہروں اور عالمی برادری کے دباؤ کے بعد سعودی حکام نے بالآخر تسلیم کیا تھا کہ خشوگی کو بعض سعودی اہلکاروں نے قونصل خانے میں تفتیش کے دوران قتل کردیا تھا اور ان کی لاش ٹکڑے ٹکڑے کردی تھی۔

خشوگی کی لاش تاحال برآمد نہیں ہوئی ہے۔ان کے قتل کے الزام میں 11 سعودی اہلکاروں کے خلاف سعودی عرب میں مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

کئی حلقوں کو شبہ ہے کہ خشوگی کو شہزادہ محمد بن سلمان کے براہِ راست حکم پر قتل کیا گیا تھا لیکن سعودی عرب اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ خشوگی کے قتل میں ملوث اہلکاروں نے اپنے طور پر یہ کارروائی کی تھی جنہیں اس کی سزا ملے گی۔

لیکن سعودی عرب قاتلوں تک رسائی دینے اور مقدمہ ترکی میں چلانے کے انقرہ حکومت کے مطالبے کو ماننے سے انکاری رہا ہے۔

امریکی کانگریس کے دونوں ایوان دو مختلف قراردادوں کے ذریعے شہزادہ محمد کو خشوگی کے قتل کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں اور صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ سعودی قیادت پر تعزیرات عائد کریں۔

لیکن ٹرمپ حکومت سعودی عرب کو خطے میں امریکہ کے مفادات کے لیے ضروری قرار دے کر ان مطالبات کو مسترد کرتی آئی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...