Loading...

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری

0

فناشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سفارشات کی روشنی میں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت رقوم کی غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقلی، دہشت گردی کی معاونت اور بڑی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے لیے پیسوں کی ترسیل روکنے کیلئے مذید مطلوبہ اقدامات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ایس ای سی پی نے صارفین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کو یکجا کر کے ایف اے کیو یعنی متعدد بار پوچھے جانے والے سوالات کی تفصیلات دی ہیں۔ نئی رہنما ہدایات کے تحت غیر بینکاری مالیاتی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’اپنے صارفین کو جانیں‘ یا اُن کے بارے میں مکمل معلومات رکھیں۔

سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اصرار کیا کہ مواد اور خطرات کی بنیاد پر مناسب اوقات پر ’صارفین کو جاننا‘ اور ان کی ضروری چھان بین انتہائی اہم ہے اور یہ کہ بینکنگ چینل کے ذریعے فنڈز کی سرمایہ کاری کے باوجود مالیاتی ادارے اور کمپنیاں کسی بھی قسم کی مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ کے بھی ذمے دار ہوں گے۔

نگران ادارے کی جانب سے یہ ہدایت نامہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے بعد پاکستان ایکشن پلان سے متعلق جائزہ رپورٹ رواں ماہ کے آخر میں جمع کروائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کی طرف سے گرے لسٹ میں شامل ہونے کے بعد پاکستان مشکل صورت حال کا شکار ہے اور منی لانڈرنگ کے خلاف موثر اقدامات نہ کرنے پر اُسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔

ایف اے ٹی ایف کی پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات آئندہ ماہ کولمبو میں ہو گی جس میں سفارشات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایس ای سی پی نے یہ نئی ہدایات بیمہ اداروں، اسٹاک بروکرز، مضاربہ کمپنیز اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو جاری کی ہیں جس کے تحت یہ کمپنیاں اپنے صارفین کی مکمل تفصیلات جمع کریں گی۔

گذشتہ برس ایس ای سی پی نے ایف اے ٹی ایف کی تجاویز کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ اور کاوئنٹر ٹیررازم فنانسنگ ریگولیشنز 2018 جاری کی تھیں۔

اسلام آباد کے فنانشل تھنک ٹینک کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سولہری کے مطابق ایس ای سی پی کے نئے اقدامات صحیح سمت کی جانب ایک قدم ہیں جس سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط بھی پوری ہوں گی اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل میں لانے میں مدد ملے گی۔

ان کے مطابق اگر متوازی معیشت کی بات کی جائے تو اس میں پیسوں کا ایک بڑا حصہ بلیک منی کا ہوتا ہے جس کی سرمایہ کاری سونے کے لین دین میں کی جاتی ہے کیونکہ اس کی نہ تو کوئی لکھت پڑت ہوتی ہے نہ ہی معلوم ہو پاتا ہے کہ یہ پیسہ کن ذرائع سے آیا ہے۔

ڈاکٹر عابد سولہری کہتے ہیں کہ حکومت کا یہ اقدام دیر آید درست آید کی ماند ہے لیکن اس پر عملدرآمد میں وقت لگے گا۔

عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اکثر دہشت گرد اور کالعدم تنظیمیں سونے کے زیورات کے عطیات وصول کرتی ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں کاروبار کے لئے ابتدائی رقم فراہم کرتی ہیں اور جوں جوں کاروبار بڑھتا جاتا ہے اس سے اپنا پیسہ تواتر سے وصول کرتے رہتے ہیں۔

ان ہی وجوہات کی بنا پر ایس ای سی پی کو اپنے قوائد میں تبدیلی اور مالی خدمات انجام دینے والے اداروں کے لئے نئی رہنما ہدایات جیسے اقدامات اٹھانا پڑے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...