Loading...

تاریخی گرجاگھر نوٹرڈیم میں آتش زدگی سے چھت اور مینارہ گر گیا

0

پیرس میں واقع تاریخی گرجا گھر نوٹرڈیم میں اچانک بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی جس سے اس قدیم عمارت اور سیاحت کے ایک اہم مرکز کو شدید نقصان پہنچا۔

فائرفائٹرز نے کہا ہے کہ آتش زدگی سے 800 سو سال پرانے گرجاگھر کی چھت اور ایک مینارہ گر گیا تاہم اس کے پتھروں سے بنے ڈھانچے کو تباہ ہونے سے بچا لیا گیا۔

تاریخی کیتھڈرل میں آگ شام کے وقت بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے چھت اور ایک مینارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بجھانے کا عملہ آگ مرکزی ٹاور کو آگ سے بچانے میں کامیاب ہو گیا جس پر گھنٹی نصب ہے۔ تاہم اس کوشش میں ایک فائر فائٹر زخمی ہو گیا۔

پیرس کے فائر چیف جین کلاؤڈ نے آتش زدگی کے مقام پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم نے نوٹرڈیم کے دو ٹاورز کو تباہ ہونے سے بچا لیا ہے اس لیے ہمارا خیال ہے کہ تاریخی گرجا گھر کا مرکزی ڈھانچہ محفوظ ہے۔

اگرچہ آگ پر قابو پایا جا چکا ہے لیکن یہ خطرہ موجود ہے کہ اندورنی اسٹرکچر کے کچھ حصے گر سکتے ہیں۔ اسے بچانے کے لیے فائر فائٹر جلے ہوئے حصوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

فرانس کے میکرون صدر نے کہا ہے کہ تاریخی کیتھڈرل کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ویڈیوز میں نوٹرڈیم کی مخروطی چوٹی شعلوں میں گھری ہوئی نظر آ رہی ہے اور آگ کے شعلے اور دھواں چھت سے اوپر اٹھ رہا ہے۔ آگ کی شدت سے گرجا گھر کی مخروطی چوٹی جل کر گر گئی۔

پیرس کی میئر این ہیدالگو نے کہا ہے کہ فائر فائٹرز خوفناک آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آگ لگنے کی وجہ کا فی الحال پتا نہیں چل سکا۔

فرانسیسی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آگ بجھانے کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ زیادہ تر امکان یہ ہے کہ آگ بھڑکنے کا تعلق گرجا گھر کی تزئین و آرائش کے کام سے ہے۔

ان دنوں گرجا گھر کی تزئین و آرائش اور مرمت کا کام ہو رہا ہے۔

عہدے داروں نے بتایا کہ گرجا گھر کے کئی حصوں میں مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے مچانیں کھڑی گئی ہیں اور پچھلے ہفتے کانسی کے مجمسوں کو اس مقصد کے لیے وہاں سے ہٹایا گیا ہے۔

نوٹرڈیم میں شدید آتش زدگی کے باعث صدر ایمنوئل میکرون نے قوم سے اپنے ٹیلی وژن خطاب کو ملتوی کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پیرس میں نوٹرڈیم پر شدید آتش زدگی کا منظر بہت خوفناک ہے۔ شاید اس کے لیے فلانئگ واٹر ٹینکر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس پر تیزی سے عمل کرنا چاہیے۔

فرانسیسی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس خطرے کے پیش نظر کہ تاریخی عمارت کو مزید نقصان نہ پہنچے، آگ بجھانے کے لیے ایئر ٹینکر استعمال نہیں کیے گئے، اس کی بجائے محفوظ طریقوں پر عمل کیا گیا۔

قرون وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھنے والا یہ کیتھولک کیتھڈرل یورپ میں سیاحت کے سب سے بڑے مراکز میں شامل ہے جسے بڑی تعداد میں لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

اس کیتھڈرل کا تعلق 12 صدی عیسوی سے ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...