Loading...

سوڈان میں بغاوت کے بعد خلیجی ریاستوں کے رابطے

0

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جس میں انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ “خطے کی صورتِ حال” پر بات چیت کی۔

سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شہزادہ محمد بن زید نے منگل کو اپنے دورے کے دوران شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقاتوں میں “خطے میں آنے والی تبدیلیوں” پر تبادلۂ خیال کیا۔

امارات کے ولی عہد نے یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب سوڈان میں 30 سال سے برسرِ اقتدار عمر البشیر کے خلاف کامیاب فوجی بغاوت کے بعد عرب دنیا کی بادشاہتیں تشویش کا شکار ہیں۔

سوڈان کی فوجی قیادت نے صدر عمر البشیر کے خلاف کئی ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے بعد گزشتہ ہفتے انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

فوج نے ملک کا انتظام چلانے کے لیے ایک عبوری فوجی کونسل تشکیل دی ہے جو فوجی جنرلوں کے بقول دو سال تک ملک کا انتظام چلائے گی اور پھر عام انتخابات کروا کر اقتدار سول حکومت کو منتقل کر دے گی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اتوار کو صدر البشیر کے خلاف بغاوت کرنے والی فوجی قیادت کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

دونوں ملکوں کی قیادت نے سوڈان کے بحران پر اپنی طویل خاموشی توڑتے ہوئے اتوار کو ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ وہ سوڈان میں پرامن انتقالِ اقتدار اور استحکام دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔

سعودی عرب نے فوجی بغاوت کے بعد “سوڈان کے عوام کے لیے ” امدادی پیکیج کا بھی وعدہ کیا ہے تاکہ سوڈان کی ابتر معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔

اس سے قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مصر میں 2013ء میں ہونے والی فوجی بغاوت کی بھی حمایت کی تھی جس کے نتیجے میں موجودہ صدر اور اس وقت کے وزیرِ دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی برسرِ اقتدار آئے تھے۔

فوجی بغاوت کے بعد دونوں خلیجی ملکوں نے مصر کی فوجی حکومت کو اربوں ڈالر کی امداد دی تھی۔

مصر کی طرح سوڈان بھی ایران کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا اہم اتحادی رہا ہے جس کے فوجی دستے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں سعودی اتحاد میں شامل ہیں۔

سوڈان کے ایک اہم فوجی افسر نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ سوڈان کے فوجی دستے اس وقت تک یمن میں موجود رہیں گے جب تک عرب اتحاد وہاں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اتحادی ملکوں کے ہمراہ 2015ء میں حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں فوجی مداخلت کی تھی جو تاحال جاری ہے۔

‘اے ایف پی’ کے مطابق دونوں خلیجی ممالک سوڈان کے پڑوسی ملک لیبیا میں جاری لڑائی پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں ان کے حمایت یافتہ خلیفہ ہفتر کی فوجیں دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کے قریب ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے حال ہی میں خلیفہ ہفتر کی فوج کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتر کی فوج کی طرابلس کی جانب پیش قدمی کو خلیجی ملکوں کی آشیرباد حاصل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...