Loading...

ملر رپورٹ پر جماعتی بنیادوں پر منقسم رائے زنی

0

ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن قانون سازوں نے جمعرات کو 2016ء کے صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی گٹھ جوڑ پر جاری ہونے والی خصوصی تفتیشی اہلکار رابرٹ ملر کی رپورٹ پر مختلف نوعیت کے رد عمل کا اظہار کیا ہے، بلکہ اس بات پر بھی کہ اب کانگریس کو کون سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تفتیش کاروں نے طے کیا ہے کہ 2016ء کے انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق ٹرمپ کی انتخابی مہم میں سے کسی نے جان بوجھ کر کوئی ساز باز نہیں کی۔ تاہم، انھوں نے صدر کو اس بات سے بری الذمہ قرار نہیں دیا کہ اُنھوں نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے اقدام نہیں کیے۔

ایک بیان میں اوکلوہاما سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکن سینیٹر، جیمز انہوف نے ملر کی رپورٹ کو ’’شور زیادہ تھا: کوئی گٹھ جوڑ اور کوئی رکاوٹ‘‘ ثابت نہیں ہو پائی؛ جب کہ اُنھوں نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس نے’’صدر کو بدنام کرنے کی کوشش کی‘‘۔

دریں اثنا، ڈیموکریٹس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے اقدامات کی چھان بین جاری رکھیں گے۔

نیو یارک سے ڈیموکریٹ رکن ایوانِ نمائندگان، جیری نادلر نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’خصوصی تفتیشی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ اُنھوں نے صدر کو الزام سے بری نہیں کیا، اور اب یہ کانگریس کی ذمے داری ہے کہ وہ صدر کے اقدامات پر ان کا احتساب کرے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس بات کی ضرورت ہے کہ کانگریس مکمل رپورٹ سامنے رکھ کر خصوصی تفتیشی اہل کار ملر کی جانب سے پیش کردہ ثبوت پر غور کرے‘‘۔

ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ملر رپورٹ کے ان حصوں کی نشاندہی کی ہے جن میں 2016ء کے صدارتی انتخابات میں مد مقابل ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچانے کے لیے ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے غیر ملکی کارندوں سے رابطے کیے گئے؛ جن میں ان کی اِی میلوں کو ہیک کرنا اور حساس اِی میلوں کو جاری کرنا شامل ہے۔

اُنھوں نے ان واقعات کی دستاویزات کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی جن میں ٹرمپ نے روس سے متعلق چھان بین کو روکنے کی مبینہ کوشش کی۔

ڈیموکریٹ رکن کانگریس، بریڈ شرمن نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ’’ملر نے گٹھ جوڑ دکھائی ہے، جو شاید مجرمانہ گٹھ جوڑ نہیں ہے۔ اِی میلوں کو جاری کرنا گٹھ جوڑ ہے، لیکن ہیکنگ ایسا عمل نہیں ہے۔ ملر نے مجرمانہ رکاوٹ ڈالنے کی کئی مثالیں پیش کی ہیں‘‘۔

اس سے قبل اخباری کانفرنس کرتے ہوئے، اٹارنی جنرل ولیم بر نے کہا کہ ’’ڈپٹی اٹارنی جنرل اور میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خصوصی تفتیشی نمائندے نے جو ثبوت پیش کیے ہیں وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ صدر ٹرمپ یا اُن کی صدارتی مہم کے کسی اہل کار نے انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔‘‘

امریکی اٹارنی جنرل نے تفتیشی رپورٹ جاری کرنے سے قبل رپورٹ کی چند تفصیلات پیش کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم اور روس کے درمیان کسی قسم کی ساز باز کے کوئی اشارے نہیں ملے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...