Loading...

ایک ایسی حسین و جمیل عورت کہ جس کو دیکھ کر دو جلیل القدر فرشتوں نے رب تعالیٰ کے قانون سے بغاوت کر دی،یہ فرشتے آج بھی دنیا میں کہاں اور کس حال میں موجود ہیں،وہ عورت کہاں گئی؟ ایمان افروز معلومات

0

تفسیر عزیزی نے بحوالہ ابن جریر و حاکم اور دیگر تفاسیر نے حضرت ابن عباس و علی المرتضی وعبداللہ ابن مجاہد رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے روایت بیان کی ہے کہ : حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانے میں لوگ بہت بدعمل ہو گئے تھے اور فرشتوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ : انسان بہت بدکار ہے یہ تیری خلافت کے لائق نہیں ہےاس لیے انسان کو منصبِ خلافت سے ہٹا دیا جائے ۔

اللہ پاک کا ارشاد ہوا کہ : انسان میں غصہ اور شہوت ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ گناہ کرتا ہے اگر یہ چیزیں فرشتوں کو دے دی جائیں تو وہ بھی گناہگار ہو جائیں گے۔فرشتوں نے کہا : ہم تو کبھی بھی گناہ کے قریب نہ جائیں گے

خواہ کتنا ہی غصہ اور شہوت ہو۔حکمِ ربی ہوا کہ : اچھا تم فرشتے اپنی جماعت میں سے کوئی سے دو فرشتے چن لو جو تمہارے خیال میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں پھر انھیں غصہ اور شہوت دے کر دنیا میں بھیجا جائے گا تاکہ انہیں آزمایا جا سکے ۔چنانچہ ہاروت اور ماروت جو بہت پرہیزگار فرشتے تھے منتخب ہو گئے اور انہیں غصہ اور شہوت دے کر شہرِ بابل میں اتار دیا گیا اور کہا گیا کہ : تم دونوں قاضی بن کر لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرو اور شام کو اسمِ اعظم کے ذریعے واپس آسمان پر آ جایا کرو ۔

یہ دونوں قریب ایک ماہ تک اسی طرح آتے جاتے رہے اس عرصے میں ان کے عدل و انصاف کا چرچا عام ہو گیا اور بہت سے مقدمے ان کے پاس آنا شروع ہو گئے۔ ایک روز ملکِ فارس کی ایک حسین و جمیل عورت زہرہ نامی نے اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کیا، یہ دونوں اسے دیکھتے ہی اس پر عاشق ہو گئے اور اس کے ساتھ بدعملی کی خواہش کی۔اس عورت نے کہا کہ : میرا اور تمھارا دین الگ الگ ہے اور میرا شوہر بہت غیرت مند ہے اگر اسے پتہ چلا تو وہ مجھے قتل کر دے گا اس لیے اگر تم اپنی خواہش پوری کرنا چاہتے ہو تو پہلے میرے شوہر کو قتل کرنا ہو گا اور جس بت کی میں پوجا کرتی ہوں اسے سجدہ کرنا ہو گا۔اس عورت کی شرائط سن کر دونوں نے انکار کر دیا۔ وہ عورت تو واپس چلی گئی لیکن ان دونوں کے دل میں عشق کی آگ بھڑکا گئی۔

کچھ روز تو ان فرشتوں نے برداشت کیا لیکن ایک روز مجبور ہو کر اس عورت کو ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا۔ اس نے فوراً ان دونوں کو ملنے کے لیے بلوا لیا۔ جب یہ دونوں وہاں پہنچے تو وہ خوب بناؤ سنگھار کر کے بیٹھی تھی۔ اس نے کہا کہ : مجھے پتہ چلا ہے کہ تم دونوں اسمِ اعظم جانتے ہو۔ تو اپنی خواہش کے حصول کے لیے یا تو مجھے اسمِ اعظم بتا دو، یا پھر اس بت کو سجدہ کرو یا میرے شوہر کو قتل کرو یا پھر شراب پی لو ۔دونوں فرشتوں نے سوچا کہ اسمِ اعظم تو اسرارِ الہیٰ ہے اسے فاش نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح بت کو سجدہ کرنا یا کسی کو قتل کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے اس لیے چلو شراب لاؤ ہم شراب پی لیتے ہیں۔ جب وہ دونوں شراب پی کر مست ہو گئے تو

اس عورت نے ان دونوں سے بت کو سجدہ بھی کروایا،اپنے شوہر کو قتل بھی کروا لیا اور اسمِ اعظم معلوم کر کے صورت بدل کر آسمان پر جا پہنچی اور حق تعالیٰ نے اس کی روح کو زہرہ ستارے سے متصل کر دیا!دوسری جانب جب ہاروت اور ماروت کو ہوش آیا تو وہ اسمِ اعظم بھول چکے تھے اور اپنے کیے پر نادم اور شرمندہ تھے۔ حق تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ : انسان میری تجلی سے دور رہتا ہے لیکن یہ دونوں تو ہر شام حاضرِ بارگاہ ہوتے تھے پھر بھی شہوت سے مغلوب ہو کر گناہ کر بیٹھے۔ تو اگر انسان سے گناہ سرزد ہوتا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔یہ سن کر تمام فرشتوں نے اپنی خطا کا اقرار کیا اور انسانوں کے لیے دعاء مغفرت کرنے لگے۔

اس کے بعد ہاروت اور ماروت حضرت ادریس علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوئے اور اللہ کے حضور معافی کی درخواست کی۔ آپ نے دونوں کے لیے دعاء مغفرت کی جس کے کئی روز بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ ان دونوں کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو دنیاوی عذاب قبول کر لیں یا آخرت کا۔ انہوں نے سوچا کہ دنیا کا عذاب ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گا لیکن آخرت کا عذاب نہ ختم ہونے والا ہے اس لیے دونوں نے دنیاوی عذاب قبول کر لیا۔چنانچہ حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ

ان دونوں کو لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر بابل کے کنویں میں اوندھا لٹکا دیا جائے۔ اس کنویں میں آگ جل رہی ہے اور فرشتے باری باری ان پر کوڑے برساتے ہیں اور پیاس کی شدت سے ان کی زبانیں باہر کو لٹک رہی ہیں اور یہ عذاب ان پر قیامت تک یوں ہی شدید رہے گا۔ اور آخر کار ان کو نجات ملے گی۔(نوٹ: اس واقعہ میں بہت اختلاف ہے۔ اس لئے تفسیر عزیزی کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ زائد اس واقعہ میں لوگوں نے لکھا ہے۔ جس کی تصدیق بہت مشکل ہے )

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...