Loading...

انسداد پولیو مہم : ہنگامہ آرائی پر قابو پا لیا گیا، خیبر پختونخواہ حکومت

0

ایک روز قبل پشاور شہر کے نواحی علاقوں بڈھ بیر اور اُرمڑ میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کے بعد بچوں کی حالت بگڑنے کی اطلاعات سے پیدا ہونی والی صورت حال پر قابو پالیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پیر سے شروع ہونے والی پولیو کے انسداد کی چھ روزہ مہم صوبے بھر میں جاری ہے۔

مہم کے دوسرے روز صوبائی وزیر اطلاعات نے تصدیق کی کہ جنوبی شہر بنوں میں انسداد پولیو مہم میں سیکورٹی کی ڈیوٹی پر تعینات ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

پشاور کے پولیس تھانے بڈھ بیر میں ماشوخیل مرکز صحت کے ڈاکٹر نصرت علی شاہ کی رپورٹ پر نجی اسکول کے پرنسپل سمیت 300 افرادکے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے خلاف ہنگامہ آرائی میں بنیادی مرکز صحت پر حملے اور اسے نقصان پہنچانے میں ملوث افراد کی گرفتار کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ترجمان فرہاد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس پولیو ویکسن کے خلاف افواہ پھیلنے کے بعد والدین لگ بھگ ایک ہزار بچوں کو خوف کے پیش نظر اسپتال لائے تھے، ان میں سے کوئی ایک بھی پولیو ویکسن سے متاثر نہیں ہوا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ اس وقت صرف 2 بچے اسپتال میں داخل ہیں جن میں سے ایک کو گلے اور دوسرے کو قے کی تکلیف ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق صوبے بھر میں 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 25 ہزار بچوں کو مختلف اسپتالوں میں لایا گیا۔

پولیو کے دو نئے کیسز

خیبر پختونخوا کے انسداد پولیو کے ایمرجنسی سینٹر نے منگل کے روز بتایا کہ دو بچوں میں پولیو کی تصدیق ہونے بعد پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہو گئی ہے۔

ان مریضوں میں سے 6 کا تعلق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے ہیں۔

حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کے قصبے میران شاہ کی دو سالہ رضیہ اور جنوبی ضلع بنوں کے 22 ماہ کے بچے حمزہ میں پولیو کی نشاندہی ہوئی ہے۔ پولیو کے دو نئے کیسز ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبر پختونخوا کےطویل و عرض میں ایک بار پھر پولیو سے بچاؤ کے قطروں پر بحث مباحثہ زور و شور سے جاری ہے۔

صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان نے سوموار کی رات ایک بیان میں انسداد پولیو مہم کے دوران بچوں کی حالت بگڑنے کے واقعات کو منظم سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات کے لیے دس رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت کے مطابق کمیٹی 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کریے گی۔

حکام نے اس سلسلے میں پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ زیر حراست شخص نظر گل ایک سرکاری ادارے کا ملازم ہے۔ اسے منگل کو ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں پیر کو چھ روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہوا تھا۔

پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں پیر کو چھ روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہوا تھا۔

پشاور کے مضافاتی علاقوں بڈھ بیر اور ارمڑ میں انسداد پولیو کی 6 روزہ مھم کے پہلے روز سوموار کو پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر کے ایک نجی اسکول میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے بعد بعض بچوں کی حالت بگڑ گئی ۔ اسکول انتظامیہ نے فوری طور پر 60 کے لگ بھگ بچوں کو ایک قریبی اسپتال منتقل کیا۔ انتظامیہ کے مطابق پولیو ویکسن پینے کے بعد بعض بچوں کو قے کی شکایت ہوئی۔ اس کے بعد قریبی علاقے ارمڑ کے ایک اور نجی اسکول سے بھی اسی قسم کے اطلاعات آئیں جس کے بعد یہ خبر پشاور اور صوبے بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس سے پولیو سے بچاؤ کی مہم پر منفی اثر پڑا۔

ڈاکٹروں اور سول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منظم سازش کے تحت پروپیگنڈہ کے ذریعے والدین میں خوف و ہراس پھیلایا گیا جس کے نتیجے میں والدین اپنے بچوں کو فوری طور پر معائنے کے لیے اسپتالوں میں لے گئے۔

تاہم گلبرگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سید موسم علی شاہ کا کہنا ھے کہ پولیو ویکسین پینے کے بعد بعض بچوں کی حالت بگڑی تھی جن میں ان کی بچی بھی شامل ہے۔ وہ اسے کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال لے گئے جہاں طبی امداد ملنے کے بعد وہ ٹھیک ہو گئی۔

پشاور کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ کے دیگر علاقوں سے بھی سینکڑوں بچوں کی حالت بگڑنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے اس واقعات کو اتنا پھیلا دیا گیا ہے کہ منگل کی صبح اکثر والدین نے اسکولوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ان کے بچوں کو پولیو ویکسین سمیت کسی بھی بیماری سے بچاؤ کی دوا نہ دی جائے۔

بڈھ بیر کے جس نجی اسکول سے پیر کے روز بچوں کی حالت بگڑنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھی، اس اسکول کے پرنسپل نے مبینہ طور پر ماضی قریب میں بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ اسکول پرنسپل سمیت 300 افراد کے خلاف مقدے درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

انسداد پولیو کی 6 روزہ مھم کے دوسرے روز پشاور سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو قطرے پلانے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ والدین کی ایک بڑی تعداد پچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسن پلوانے سے انکار کر رہی ہے۔​

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...