Loading...

بھیڑ والے مقامات سے دور رہیں، سری لنکا کے شہریوں کو نیا انتباہ

0

کولمبو میں امریکی سفارت خانے نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اگلے اختتام ہفتہ کے دِنوں کے دوران سری لنکا کی عبادت گاہوں سے دور رہیں۔ پیغام میں سری لنکا کی ان رپورٹوں کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ مزید حملوں کا امکان ہو سکتا ہے۔
سفارت خانے نے جمعرات کو اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا ہے کہ ’’چوکنہ رہیں اور بڑے اجتماعات سے دور رہیں‘‘۔
یہ انتباہ ان دنوں سامنے آیا ہے جب ’ایسٹر سنڈے‘ کے موقعے پر مسیحی عبادت گزاروں پر تباہ کن حملہ ہوا، جن خودکش بم حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل، اہلکاروں نے ہلاکتوں کی تعداد 350 سے زائد بتائی تھی۔ لیکن، جمعرات کے روز نظرثانی شدہ اعداد سامنے آئے ہیں۔ یہ کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان ہو سکتا ہے کہ کچھ میتوں کی دو بار گنتی کی گئی ہو۔
بم حملوں کے واقعے کے بعد، سری لنکا کے سیکریٹری دفاع، ہما سیری فرننڈو نے جمعرات کو استعفیٰ پیش کیا، جس سے قبل سری لنکا کے صدر کی جانب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
صدر متھریپالا سری سینا نے فرنینڈو کے ساتھ ساتھ پولیس سربراہ پجیتھ جیاسندرا سے عہدے سے سبک دوش ہونے کا کہا تھا۔ اس سے قبل ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں ان اہلکاروں کے خلاف سخت اقدام کا عہد کیا گیا جنھوں نے انھیں بروقت انٹیلی جنس کے انتباہ سے آگاہ نہیں کیا تھا، جو گرجا گھروں اور پر تعیش ہوٹلوں پر ہونے والے حملوں سے قبل بھارت نے جاری کیا تھا۔
ایسے میں جب انتباہ پر کان نہ دھرنے پر حکومت کو بڑھتی ہوئی عوامی برہمی کا سامنا ہے، اعلیٰ اہلکار تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک ’’بڑی ناکامی‘‘ ہے۔
ڑائٹرز نے خبر دی ہے کہ فرنینڈو نے کہا کہ ان کی طرف سے کوتاہی نہیں ہوئی، لیکن وہ اس لیے مستعفی ہو رہے ہیں تاکہ وہ چند ادارے جن کے وہ سربراہ ہیں ان کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کی جاسکے۔
رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس اداروں نے سری لنکا کو کئی بار انتباہ دیا تھا اور یہ کہ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں نے شدت پسند گروپ، ’نیشنل توفیق جماعت‘ (این ٹی جے) کے بارے میں کئی تفصیل اکٹھے کیے تھے۔ شبہ ہے کہ اس نے مبینہ طور پر حملے کرائے ہیں۔
اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے آیا سریسینا اور وزیر اعظم رنیل وکرما سنگھے کی آپس کی سیاسی چپقلش حملوں کے انتباہ پر بروقت اقدام کرنے میں ناکامی کا باعث بنی۔ وکرما سنگھے نے کہا ہے کہ پیغام رسانی میں کہیں جھول رہ گیا تھا۔

داعش نے بم حملوں کی ذمے داری کا دعویٰ کیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...