Loading...

اسٹیٹ بینک کے گورنر کو کیوں ہٹایا گیا؟

0

عالمی مالیاتی فنڈ سے وابستہ رہنے والے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر رضا باقر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کا عہدہ سنھبال لیا ہے۔ اُنہیں گزشتہ روز تین سال کیلئے گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کیا گیا تھا۔

حکومت نے گزشتہ روز گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین جہانزیب خان کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد طارق باجوہ کے استعفیٰ کو منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا نیا گورنر مقرر کیا گیا۔

طارق باجوہ کو کیوں ہٹایا گیا؟

اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر طارق باجوہ کو مسلم لیگ نواز کی حکومت میں اُس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سفارش پر گورنر اسٹیٹ بینک بنایا گیا تھا۔

طارق باجوہ جون 2017 میں 60 سال کی عمر کو پہنچ کر سیکٹری خزانہ کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے اور ریٹائرمنٹ کے آگلے ہی مہینے اُنہیں تین سال کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک لگایا گیا تھا۔

خیال کیا جاتا تھا کہ طارق باجوہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دست راست تھے۔ لیکن موجود حکومت کے دور میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی گرتی ہوئی قدر اور شرح سود میں اضافے کے باعث طارق باجوہ کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی گئی۔

یاد رہے کہ اگست 2018 میں موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ڈالر کی قدر 123 روپے تھی جو بڑھ کر 144 تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاسوں میں کئی اہم وفاقی وزرا نے گورنر اسٹیٹ بینک کو ہٹانے کا معاملہ اٹھایا تھا۔

اسد عمر کے وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ڈاکٹر حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ تعینات کیا گیا۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر حفیظ شیخ کے کہنے پر ہی سابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ سے استعفیٰ لیا گیا ہے۔ یوں مشیر خزانہ کی سفارش پر ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا نیا گورنر مقرر کر دیا گیا ہے۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ بھی ماضی میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے وابستہ رہے ہیں اور حفیظ شیخ اور ڈاکٹر رضا باقر کے آپس میں اچھے مراسم رہے ہیں۔

ڈاکٹر رضا باقر کون ہیں؟

ڈاکٹر رضا باقر گزشتہ 18 برس سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے وابستہ ہیں اور اسٹیٹ بینک کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے وہ مصر میں آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ اس سے قبل وہ بلغاریہ اور رومانیہ میں بھی آئی ایم ایف مشن کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔

ڈاکٹر رضا باقر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں ڈیٹا پالیسی ڈویژن اور سٹریٹجی پالیسی ڈویژن میں کام کیا ہے جہاں وہ قبرص، گھانا، یونان، جمیکا اور یوکرائن جیسی بحران کی شکار معیشتوں کے لیے قرض دینے اور مالیاتی نظام بہتر کرنے کے لیے پالیسی سازی کرتے تھے۔

ماضی میں ڈاکٹر رضا باقر نے عالمی بینک اور یونین بینک آف سوٹزرلینڈ میں بھی خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ وہ امریکہ کی یونیورسٹی ایم آئی ٹی میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

ڈاکٹر رضا باقر لاہور کے ایچیسن کالج سے فارغ التحصیل ہیں اور اُنہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا جس کے بعد امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے اُنہوں نے اقتصادیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔

سابق گورنر اور عالمی مالیاتی ادارے

پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب کسی عالمی ادارے سے وابستہ شخص کو گورنر اسٹیٹ بینک بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی افراد کو باہر سے بلا کر اسٹیٹ بینک کا گورنر تعینات کیا گیا ہے۔

اس سے قبل آئی ایم ایف سے وابستہ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محمد یعقوب کو اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 1993 سے 1999 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے بھی اسٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدے پر فرائض سر انجام دیے ہیں۔ وہ ماضی میں عالمی بینک سے وابستہ تھے۔

ڈاکٹر عشرت حسین کے بعد ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شمشاد اختر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا گیا تھا جو ماضی میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے وابستہ رہی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...