Loading...

پی ٹی ایم رہنماؤں کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم

0

پشاور ہائی کورٹ نے صوابی میں پختون تحفظ موومنٹ کے رہنماوں کے خلاف درج ایف آئی ار ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

پولیس نے پی ٹی ایم کے رہنماؤں منظور پشتین، علی وزیر، محسن داوڑ، اسماعیل کلا لئی اور ڈاکٹر مشتاق کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی تھی جس میں ان پر لوگوں کو ریاست کے خلاف اکسانے کا الزامات عائد کیے گئے تھے۔

پی ٹی ایم کے رہنماؤں نے ایف آئی آر کے خلاف پشاور کی ہائی کورٹ میں داخواست دائر کی جس میں مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نےکی۔

درخواست گزار ڈاکٹر مشتاق کے وکیل ایاز خان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پشتوں تحفظ موومنٹ کے رہنماوں نے صوابی میں ایک جلسہ کیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے پی ٹی ایم کے رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جلسہ کرنا کسی بھی شہری کا آئینی حق ہے اور ان کے موکل نے جلسہ کر کے کوئی غیر آئینی اقدام نہیں کی۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے جب کہ جلسہ کرنے پر ان کے موکل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست گزار کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ صوابی کے جلسے میں پی ٹی ایم کے رہنماوں نے حکومت کے خلاف تقاریر کیں اور لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسایا۔

عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلے میں پشتوں تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے حکم جاری کر دیا۔

سینیٹ کمیٹی کا پی ٹی ایم رہنماؤں کے ساتھ اجلاس

ایک اور خبر کے مطابق پی ٹی ایم کا اپنے مطالبات کے حوالے سے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا۔

قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے فروغ کی سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کنونیئر بیرسٹر محمد علی سیف نے کی، جس پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ کی قیادت میں شرکت کی۔

سینیٹ کمیٹی اور پی ٹی ایم قیادت کے درمیان یہ دوسری باضابطہ ملاقات ہے جو کہ گزشتہ ملاقات کے تسلسل میں کی گئی۔

سینیٹر محمد علی سیف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں اس وقت تصادم، نفرت اور غصے کی بات ہو رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اسے تصفیے اور حل کی جانب لے کر جایا جائے اور پی ٹی ایم کے جائز مطالبات کا حل تلاش کیا جائے۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی ایم ہمیں لاپتا افراد کے اعداد و شمار، مقدمات، گرفتار ساتھیوں اور ای سی ایل پر ڈالے گئے افراد کے ناموں کی تفصیلات کی فراہم کرے تاکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ بات کی جا سکے۔ پی ٹی ایم وفد نے اگلے چند دنوں میں مطلوبہ تفصیلات کمیٹی میں پیش کرنے کا وعدہ کیا۔

پی ٹی ایم وفد میں شامل عبداللہ ننگیال، محترمہ عصمت شاہ جہاں اور محترمہ گلالئی اسماعیل اور دیگر نے سینیٹ کمیٹی میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کمیٹی کے اجلا س میں سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، ستارہ ایاز، سجاد حسین طوری، نصیب اللہ بازئی، ہدایت اللہ، دلاور خان، فدا محمد خان، سردار شفیق ترین، خانزادہ خان، میر کبیر احمد محمد شاہی، پیر صابر شاہ، رانا مقبول احمد اور عبدالغفور حیدری کے علاوہ ایم این اے محسن داوڑ اور پی ٹی ایم کے عہدیداران نے شرکت کی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...