Loading...

گوادر: مقامی ہوٹل پر مسلح افراد کا حملہ، ایک محافظ ہلاک

0

گوادر کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں مشکوک افراد کے داخل ہونے کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر رکھا ہے، جب کہ، اطلاعات کے مطابق سیکورٹی کی یہ کارروائی ابھی جاری ہے۔

مقامی افراد کے مطابق، ہوٹل کے اطراف سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس اور ایف سی کی نفری موقع پر کارروائی میں مصروف ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات، احمد بلیدی نے بتایا ہے کہ ہوٹل میں 3 مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور یہ کہ ‘‘سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے، جو ابھی جاری ہے‘‘۔

ادھر، آئی ایس پی آر کے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس دوران مزاحمت پر حملہ آوروں نے گارڈ کو گولی مار کر ہلاک کیا۔

مقامی افراد کے مطابق، گوادر بندرگاہ پر کام کرنے والے چینی باشندے اس ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چینی باشندوں کی تعداد 40 سے زائد ہے۔

ادھر، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ اس معاملے پر ’’دونوں حکومتوں کے متعلقہ اہلکار قریبی رابطے میں ہیں‘‘۔

ایک بیان میں چیرمین سینیٹ محمد صادق عمرانی نے گوادر کے فائیو اسٹار ہوٹل پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ’’بھرپور مذمت‘‘ کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’دہشت گرد ملکی ترقی کے دشمن ہیں، جو اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’حکومت اور سیکورٹی ادارے امن و امان کی صورت حال کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں‘‘۔

ادھر، بلوچ لبریشن آرمی کے خودساختہ ترجمان، جیئند بلوچ نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے گوادر کے فائیو اسٹار ہوٹل پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ، ’’یہ حملہ بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کے جانبازوں نے کیا‘‘۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...