Loading...

خواتین کے لیے خطرناک ترین ممالک میں بھارت سرفہرست

0

عالمی تنظیم کے سروے کے مطابق خواتین کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں بھارت سرفہرست ہے جب کہ افغانستان دوسرے، شام تیسرے اور افریقی ملک صومالیہ چوتھے نمبر پر ہے۔

تھامس رائٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق 2018ء میں خواتین کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں پاکستان چھٹے نمبر پر جبکہ سعودی عرب اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔

سروے کے مطابق عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک خاتون کو اپنی زندگی میں جنسی زیادتی یا جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تھامس رائٹرز فاؤنڈیشن نے دنیا بھر کے ممالک میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، جنسی تشدد، صحت عامہ کی سہولیات، خواتین مخالف روایات، خواتین کے خلاف پرتشدد واقعات اور اسمگلنگ کے واقعات کا جائزہ لے کر سروے کیا ہے۔

سروے کے مطابق کم عمری میں لڑکیوں کی شادی بھی بہت سے مسائل کی وجہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق 75 کروڑ لڑکیوں کی شادیاں 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہیں جس کے بعد کم عمری میں زچگی کی وجہ سے صحت پر برے اثرات پڑتے ہیں۔

کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کرنے سے اُن کے لئے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بھی محدود ہو جاتے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں ایسی روایات موجود ہیں جو خواتین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ سروے کے مطابق سنگسار کرنا، خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات، خواتین کے ختنے، جبری شادیوں، اور سزا کے طورپر خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات کے سبب خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

خواتین کے خلاف خطرناک روایات سب سے زیادہ بھارت اور افغانستان میں ہیں جب کہ پاکستان روایات کے لحاظ سے خواتین کے خطرناک ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔

سروے کے مطابق خواتین کے معاملے میں ریپ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور خواتین کو ریپ کے مقدمات میں انصاف تک رسائی نہیں ملتی۔

خواتین کے لیے صحت عامہ کی سہولیات کا فقدان ہے۔ خواتین کو صحت کی سہولیات کے حوالے سے افغانستان سب سے زیادہ پسماندہ ترین ملک ہے۔ ٹراما اور حادثاتی صورتحال میں خواتین کو ڈاکٹر تک رسائی بھی میسر نہیں ہے۔

جائزے کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملازمتوں کے مواقع، تعلیم کے حصول ، غدائیت اور جائیداد میں حصہ سمیت روزمرہ زندگی میں خواتین کو مساوی حقوق نہیں دئیے جاتے۔

دنیا میں خواتین کے لیے سب سے زیادہ عدم مساوات افغانستان، سعودی عرب، بھارت اور پاکستان میں ہے۔

افغانستان میں سب سے زیادہ خواتین پرتشدد واقعات کا نشانہ بنتی ہیں جب کہ بھارت سے خواتین کی اسمگلنگ بھی بہت زیادہ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...