Loading...

ماؤنٹ ایورسٹ کی صفائی مہم، تین ٹن کچرا اور چار نعشیں برآمد

0

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی صفائی مہم کے دوران اب تک تین ٹن کچرا اور چار نعشیں برآمد ہو چکی ہیں۔

اب تک ماؤنٹ ایورسٹ پر 300 کے قریب کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے تین چوتھائی کی نعشیں دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ پر ہی چھوڑ دی جاتی ہیں۔

1953 میں ایڈمنڈ ہلیری اور ٹینزنگ نارجے نے پہلی بار اس چوٹی کو سر کیا تھا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کے بعد اس کے بعد سے تقریباً 5200 افراد یہ چوٹی سر کر چکے ہیں۔ اس وجہ سے اس چوٹی پر ڈھیروں کے حساب سے کچرا موجود ہے جسے اب رضاکار صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پچھلے دو ہفتے کے دوران نیپال کی جانب سے صفائی کی مہم کے دوران تین ٹن کے قریب کچرا اور چار نعشیں مل چکی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ صرف شروعات ہے اور 45 دن پر محیط اس مہم کے دوران چوٹی کے راستے سے 11 ٹن کے قریب کچرا ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر اس وقت 30 ٹن کے قریب کچرا ہے مگر اس صفائی مہم کے دوران وہ سب صاف نہیں کیا جا سکے گا۔

نیپال کے سیاحت کے ڈائریکٹر ڈانڈو راج گھمیر کا کہنا تھا کہ ‘‘ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم جس قدر ممکن ہو ماؤنٹ ایورسٹ سے کچرا نکال سکیں تاکہ اس چوٹی کی عظمت بحال کی جا سکے۔ یہ چوٹی صرف دنیا کے سر کا تاج ہی نہیں بلکہ ہمارا فخر بھی ہے۔’’

سی این این کے مطابق چودہ ممبران پر مشتمل صفائی مہم کی یہ ٹیم اب بیس کیمپ تک پہنچ گئی ہے۔ اس ٹیم کو نیپال کی فوج کی طرف سے ایک ہیلی کاپٹر کی مدد بھی حاصل ہے جو کچرا لے جانے کا کام دے رہا ہے۔ اس پراجیکٹ میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ٹیم کو اپنے کام کی تکمیل کے لیے تمام ضروریات میسر ہوں۔

ایسا پہلی دفعہ نہیں ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر نعشیں ملی ہوں۔ ماضی میں بھی چوٹی پر سے نعشیں ڈھونڈنے کی مہمات ہوتی رہی ہیں جن میں سابقہ کوہ پیماؤں کی لاشیں ملتی رہی ہیں۔ چوٹی سر کرنے کے تمام مشن چونکہ بہت خطرناک ہوتے ہیں اس لیے مرنے والے کوہ پیماؤں کی نعشیں چوٹی پر ہی چھوڑ دی جاتی ہیں۔

پچھلے مہینے بھی کچھ نعشیں برآمد ہوئی تھیں کیونکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافے نے چوٹی پر برف کو پگھلا دیا تھا۔

نیپال ماؤنٹینئیرنگ ایسوسی ایشن کے سابق صدر آنگ شیرنگ شیرپا نے کہا ہے کہ ‘‘عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے چوٹی پر برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور اس کی وجہ سے جمی ہوئی نعشیں برآمد ہو رہی ہیں۔’’

توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال 775 افراد دنیا کی یہ سب سے بلند چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کریں گے۔ بہت سے لوگ ان مہمات میں اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں۔ ہر برس ہزاروں کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے دوران بڑی مقدار میں کچرا اپنے پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...