Loading...

امریکہ میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ جاری

0

امریکی محکمۂ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ میں خسرہ کے 75 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد حالیہ چند ہفتوں میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد 839 تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ 1994ء کے بعد سے امریکہ میں خسرہ کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

بیماریوں پر کنٹرول اور بچاؤ کے امریکی ادارے ‘سی ڈی سی’ کے مطابق 10 مئی تک سامنے آنے والے کیسز کے واقعات میں 9.8 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خسرے کی وبا کے ایک بار پھر پھوٹ پڑنے کی وجہ انسدادِ خسرہ کی ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات ہیں جس کی وجہ سے کئی لوگ اپنے بچوں کی ویکسینیشن نہیں کرا رہے۔

‘سی ڈی سی’ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے کیسز میں سے بیشتر نیویارک میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران نیویارک ریاست میں کل 66 کیس سامنے آئے جن میں 41 شہر کے اندر جب کہ 25 راک لینڈ کاؤنٹی میں رپورٹ ہوئے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرے کی وبا زیادہ تر اسکول جانے والے ان بچوں میں پھیل رہی ہے جن کے والدین نے انہیں خسرے سے بچاؤ کی ویکسین دینے سے انکار کر دیا تھا۔

خسرے سے بچاؤ کی ویکسین کا استعمال 1960ء کے عشرے میں شروع ہوا تھا اور ماہرین اسے خسرہ سے بچاؤ کی سب سے محفوظ اور مؤثر دوا قرار دیتے ہیں۔ یہ ویکسین بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے۔

خسرے کی حالیہ وبا کا زیادہ تر زور نیویارک کی ریاست تک محدود ہے اور اب تک اس مرض نے کسی اور ریاست میں وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ وبا پر تاحال مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور مزید کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔

امریکہ میں اس سے قبل 1994 میں خسرہ نے اس پیمانے پر وبائی شکل اختیار کی تھی جب اس مرض کے 958 کیس سامنے آئے تھے۔ اس سے قبل 1992ء میں خسرہ کے 2126 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔

امریکہ نے خسرہ کے وائرس پر 2000ء میں مکمل طور پر قابو پالیا تھا جس کے بعد سے خسرہ کا وائرس ملک میں موجود نہیں۔ البتہ حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے ملکوں سے آنے والے مسافروں کی وجہ سے خسرے کے کیسز بدستور سامنے آ رہے ہیں جو بعض اوقات وبائی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

وفاقی حکام کے مطابق 2019ء میں 40 سے زائد مسافروں کی وجہ سے خسرے کا وائرس امریکہ منتقل ہوا جن میں سے بیشتر یوکرین، اسرائیل اور فلپائن سے یہ مرض امریکہ میں لائے۔

خسرہ کا مرض متاثرہ شخص کے کھانسنے اور چھینکنے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...