Loading...

مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے تین ملزمان کی سزا برقرار دو بری

0

لاہور ہائی کورٹ نے کوٹ رادھا کشن میں ایک مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے والے دو ملزمان کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا، جب کہ تین ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج کر دیں۔

عدالت عظمٰی لاہور کے جج جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سانحہ کوٹ رادھا کشن کے مجرمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

ملزمان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے اپنی سزاؤں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس سانحہ میں سزا موت پانے والے پانچ مجرموں نے اپنی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی تھی۔

عدالت نے مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے والے تین مجرموں کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج جب کہ دو کی اپیلیں منظور کر لیں۔

عدالت عظمٰی لاہور نے سزائے موت پانے والے عرفان شکور، ریاض کمبوہ اور مہدی خان کی چار مرتبہ سزائے موت برقرار رکھی، جب کہ محمد حنیف اور حافظ اشتیاق کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم سنایا۔ حافظ اشتیاق پر الزام تھا کہ اس نے مسجد کے لاوڈ اسپیکر سے لوگوں کو اکٹھا کیا اور انہیں اشتعال دلایا۔

ڈین آف لاہور کیتھڈرل شاہد معراج کا کہنا ہے کہ جب انصاف ہوتا ہے تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ اِس سانحے میں بے قصور افراد کو کسی ثبوت کے بغیر بے دردی سے قتل کیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پادری شاہد معراج نے کہا کہ جو لوگ زیادتی اور ظلم کرتے ہیں انہیں سزا ملنی چاہیے۔

“پاکستان ہم سب کا گھر ہے۔ اسے بنانے میں مسیحوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ یہاں انصاف کو فروغ ملنا چاہیے کیونکہ انصاف ہو گا تو امن بھی آئے گا۔”

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں بھٹہ پر مزدوری کرنے والے ایک مسیحی جوڑے شہزاد مسیح اور شمع مسیح کو زندہ جلانے والے پانچ مجرموں کو چار چار مرتبہ سزائے موت سنائی تھی، جب کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے اس سانحہ میں ملوث ہونے پر حارث، ارسلان اور منیر کو دو دو سال قید کی سزا دی تھی۔

مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کا واقعہ پنجاب کے ضلع قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن کے چک نمبر 59 میں 2014 میں پیش آیا تھا۔ جس میں شہزاد مسیح اور اُس کی اہلیہ شمع مسیح کو قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی پر مشتعل ہجوم نے زندہ جلا دیا تھا۔ پولیس نے 60 نامزد ملزمان سمیت 660 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش میں 105 افراد کو نامزد کیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 23 نومبر 2016 کو پانچ ملزمان کو سزائے موت جب کہ تین کو دو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...