Loading...

حزب اختلاف کا رمضان کے بعد تحریک چلانے کا اعلان

0

پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ف کے بعد پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نے بھی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماوں کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف تحریک کی قیادت کریں گے۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اپوزیشن یہ تحریک مشترکہ طور پر چلائے گی یا انفرادی سطح پر۔

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں نے تحریک چلانے کی منظوری دے دی ہے۔ گزشتہ روز ن لیگ کے تاحیات قائد اور العزیزیہ کرپشن ریفرنس میں سزا کے بعد کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف نے پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کو عید کے بعد سڑکوں پر آنے کی ہدایت کر دی ہے۔

لیگی رہنما رانا مشہود کہتے ہیں کہ اب حکومت کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ کوٹ لکھپت جیل سے حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہو گا اور یہ تحریک پورے پاکستان میں جائے گی۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کبھی حلیف تو کبھی حریف رہی ہیں۔ اس لیے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک اپوزیشن کی مشترکہ مہم ہو گی یا نہیں، اس بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ لیکن، لیگی رہنما رانا مشہود کہتے ہیں کہ ن لیگ کی جانب سے تحریک چلانے کا اعلان تاخیر سے اس لیے گیا ہے کیونکہ ان کی جماعت حکومت کو وقت دینا چاہتی تھی۔ اب دونوں جماعتوں کا مل کر تحریک چلانا ممکن ہے۔

حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ تحریک چلانا اپوزیشن کا حق ہے۔ لیکن، ملک میں اس وقت جو بحران جاری ہے، اس کی ذمہ داری بھی اپوزیشن جماعتوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔

حزب اختلاف کی جانب سے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان ہوتے ہی وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اس معاشی بحران کا حل نکالے۔

سیاسی تجریہ نگار کہتے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلائی تو اس سے یقینی طور پر حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو گا کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دونوں جماعتیں مشترکہ سیاسی حریف کے خلاف ایک ہی صفحے پر آئی ہیں۔ دونوں سابق حکمران جماعتوں کے باہمی تعلقات کی تاریخ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن بھی لڑتی رہیں اور ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے کے عمل کا حصہ بھی بنتی رہیں اور ایک وقت یہ آیا کہ دونوں جماعتوں نے مل کر مخلوط حکومت بھی تشکیل دی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر دونوں جماعتیں مل کر عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو حکومت مشکل میں پڑ سکتی ہے، کیونکہ لوگوں کی اکثریت بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پہلے ہی پریشان ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...