Loading...

بھارتی کشمیر میں تشدد جاری، زندگی مفلوج

0

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادئ کشمیر میں جمعے کو عام ہڑتال کے باعث زندگی کے معمولات معطل رہے۔ ہڑتال کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے قائدین کے اتحاد ’مشترکہ مزاحمتی قیادت‘ نے کی تھی، ان کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کے متبرک مہینے میں بھی ریاست میں خونریزی کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔

جمعرات کو عہدیداروں نے وادئ کشمیر کے جنوبی اضلاع پُلوامہ اور شوپیان میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ دو الگ الگ مقابلوں میں 6 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جن میں کالعدم جیشِ محمد کا ایک اہم کمانڈر خالد بھائی بھی شامل ہے۔ ان جھڑپوں میں بھارتی فوج کے دو اہل کار اور ایک عام شہری بھی ہلاک ہوا۔ گزشتہ روز ہی مزید 4 افراد شورش زدہ ریاست کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں مارے گئے۔

شوپیان کے ہنداونامی گاؤں میں جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین تنظیم کے جن تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا ان میں سے اشتیاق بٹ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام شہری تھا اور اُس کا عسکریت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس دعویٰ کی صداقت کی تصدیق کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک کھلے مقام پر ہونے والی جھڑپ میں اشتیاق بٹ عسکریت پسندوں کے ساتھ کیوں تھا اور کیا کر رہا تھا۔

جمعرات کو ہونے والی ہلاکتوں کے سوگ میں جمعے کے روز کشمیر کی وادی میں عام ہڑتال رہی۔ کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

پولیس اور نیم فوجی دستوں نے حساس علاقوں میں مزید پابندیاں لگا کر لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے قبل حکام نے وادئ کشمیر کے تمام تعلیمی اداروں کو بند اور ٹرین سروسز کو معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

کشمیر کے سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہنما اور ‘مشترکہ مزاحمتی قیادت’ کے رکن میر واعظ عمر فاروق نے وائس آف امریکہ کو بتایا، “یہاں حالات دن بدن مخدوش ہو رہے ہیں۔ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی مار دھاڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ نوجوانوں کو چُن چُن کر مارا جا رہا ہے۔ سویلین ہلاکتیں بڑھ گئی ہیں۔ یہاں ایک جنگی صورتِ حال بنی ہوئی ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ، “بھارت میں عام انتخابات جاری ہیں اور اس دوران کشمیر کو خوب اچھالا جا رہا ہے۔ خود وزیرِ اعظم نریندر مودی جارحانہ قسم کے بیانات دے رہے ہیں اور بار بار اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے حکومت کی طرف سے ایک سخت گیر پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ کشمیر میں ظلم و زیادتی اور مار دھاڑ کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔”

ایک اور خبر کے مطابق جموں کے بھدرواہ قصبے میں جمعرات کو مویشیوں کے ایک مقامی تاجر نعیم احمد شاہ کی ہلاکت کو مبینہ طور پر تحفظِ گائے تحریک سے جوڑا جا رہا ہے۔

بھدرواہ میں کشیدگی کے بعد دو روز سے کرفیو جاری ہے اور علاقے میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ مقامی مسلمانوں نے الزام لگایا ہے کہ کرفیو کے دوران سیکورٹی فورسز نے ان کی املاک کو نقصان پہنچایا۔

اس سے قبل مشتعل ہجوم نے مقامی پولیس اسٹیشن پر پتھراؤ کیا اور مختلف مقامات پر دو آٹو رکشا اور ایک موٹر سائیکل نذر آتش کر دیا۔

گورنر ستیہ پال ملک نے لوگوں سے پر امن رہنے، سیکورٹی اداروں سے تعاون کرنے اور قانون اپنے ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...