Loading...

ٹرمپ کا ٹیکس ریکارڈ کانگریس کو دینے سے معذرت

0

امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسٹیون منوچن نے کانگریس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ سال کے ٹیکس گوشوارے دینے سے معذرت کرلی ہے جس کے بعد قوی امکان ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں چلا جائے گا۔

کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی ‘ویز اینڈ مینز کمیٹی’ کے ڈیموکریٹ سربراہ رچرڈ نیل نے گزشتہ ہفتے وزارتِ خزانہ کو حکم دیا تھا کہ وہ جمعے کی شام پانچ بجے تک صدر ٹرمپ اور ان کے کاروباری اداروں کے چھ سال کے ٹیکس گوشوارے کمیٹی کے حوالے کرے۔

تاہم وزیرِ خزانہ اسٹیو منوچن نے کمیٹی کے سربراہ کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ان کا محکمہ مانگی گئی معلومات دینے سے قاصر ہے۔

اپنے خط میں اسٹیو منوچن نے ٹرمپ حکومت کا یہ موقف دہرایا ہے کہ کمیٹی کے پاس کسی شخص کے ذاتی ٹیکس ریٹرنز طلب کرنے کا قانونی جواز نہیں کیوں کہ ایسی کوئی دستاویز قانون سازی کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔

کمیٹی کے سربراہ رچرڈ نیل نے 10 مئی کو ریکارڈ طلب کرنے کا قانونی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں ٹیکسوں کا منتظم ادارہ ‘انٹرنل ریونیو سروس’ ان کی کمیٹی کی جانب سے طلب کردہ معلومات فراہم کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے اور ماضی میں کبھی کمیٹی کی ایسی کوئی درخواست مسترد نہیں کی گئی۔

لیکن قانونی حکم نامہ جاری کیے جانے کے باوجود قوی امکان تھا کہ وزیرِ خزانہ کمیٹی کا یہ حکم ماننے سے معذرت کردیں گے۔

جمعے کی صبح ڈیڈلائن گزرنے سے چند گھنٹے قبل صحافیوں سے گفتگو میں رچرڈ نیل نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر ٹرمپ کے ٹیکس ریکارڈ کے حصول کے لیے انہیں عدالت کا رخ ہی کرنا پڑے گا اور وہ کوشش کریں گے کہ اس معاملے میں آئندہ ہفتے تک عدالت سے رجوع کرلیں۔

ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ پر ٹیکس بچانے اور چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں جو صدر اور ان کے مصاحبین مسترد کرتے آئے ہیں۔

امریکہ کی حالیہ تاریخ میں ڈونلڈ ٹرمپ وہ واحد صدر ہیں جو صدر بننے سے قبل اور بعد میں بھی اپنا ٹیکس ریکارڈ منظرِ عام پر نہیں لائے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران امریکہ کے تمام صدور اپنا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔

ماضی کی روایات کے پیشِ نظر صدر ٹرمپ سے ان کی انتخابی مہم کے دوران اور ان کے صدر بننے کے بعد بھی اپنا ٹیکس ریکارڈ سامنے لانے کے مطالبات ہوتے رہے ہیں جنہیں وہ نظر انداز کرتے آئے ہیں۔

حال ہی میں ڈیموکریٹس نے 1924ء کے ایک قانون کے تحت حکام سے صدر ٹرمپ کے ٹیکس گوشوارے طلب کرنے کی راہ اپنائی تھی جو ‘آئی آر ایس’ کو پابند کرتا ہے کہ وہ کانگریس کی ان کمیٹیوں کو ٹیکسوں سے متعلق دستاویزات فراہم کریں جو اس بارے میں قانون سازی کرتی ہیں۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ صدر کے ٹیکس گوشوارے دیکھ کر اس بات کا تعین کرنا چاہتی ہے کہ آیا ‘آئی آر ایس’ ایک موجودہ صدر کے ساتھ کوئی رعایت تو نہیں برت رہا اور آیا ٹیکس آڈٹ سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے ٹیکس گوشوارے ظاہر کیے بغیر 2016ء کا انتخاب جیتا تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ ووٹرز کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ان کے بقول اب ڈیموکریٹس اس معاملے کو 2020ء کے انتخاب میں دوبارہ ایک ایشو بنانا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...