Loading...

'گوگل' کا 'ہواوے' کے ساتھ کاروبار بند کرنے کا اعلان

0

امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنی ‘گوگل’ نے کہا ہے کہ وہ موبائل بنانے والی چین کی سب سے بڑی کمپنی ‘ہواوے’ کے ساتھ اپنا کاروبار معطل کر دے گی۔

‘گوگل’ کے اس انتباہ کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ مستقبل میں ‘ہواوے’ کے صارفین جی میل، یوٹیوب اور کروم جیسی ایپلی کیشنز تک رسائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

گوگل نے پیر کو کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عمل کرے گی جس کے تحت صدر نے امریکی کمپنیوں کو ‘ہواوے’ کو خدمات اور مصنوعات فراہم کرنے سے روک دیا ہے۔

گوگل کی جانب سے اس صدارتی حکم نامے پر عمل کی صورت میں ‘ہواوے’ کے نئے موبائل فونز کے خریداروں کو گوگل کی مقبول انڈرائیڈ اپیس دستیاب نہیں ہوں گی۔

صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے سے یورپ میں ‘ہواوے’ کے کروڑوں صارفین متاثر ہوں گے۔ یورپ چین کے بعد ‘ہواوے’ کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

صدر ٹرمپ نے ہواوے کے خلاف یہ حکم ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر رہی ہے۔

امریکی حکام ایک عرصے سے ان خدشات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں کہ چین ‘ہواوے’ کے فونز اور نیٹ ورک آلات کو امریکی کمپنیوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن ہواوے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

اگر امریکی صدر کے اس حکم نامے پر پوری طرح عمل ہو گیا تو یہ ‘ہواوے’ کے دنیا کی سب سے بڑی موبائل ساز کمپنی بننے کے خواب کو چکنا چور کر سکتا ہے۔ اس وقت جنوبی کوریا کی ‘سام سنگ’ دنیا کی سب سے بڑی موبائل ساز کمپنی ہے۔

‘ہواوے’ یورپ کے علاوہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں بھی موبائل کا معروف برانڈ ہے۔ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ان ملکوں میں بھی ‘ہواوے’ کی مقبولیت اور کاروبار کو دھچکہ پہنچ سکتا ہے۔

گوگل کی جانب سے خدمات کی فراہمی روکنے کے اعلان کے بعد ‘ہواوے’ نے کہا ہے کہ وہ اپنے ان تمام فونز اور ٹیبلیٹس کو ضروری خدمات اور اپ ڈیٹس کی فراہمی جاری رکھے گا جو اب تک فروخت ہو چکے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...