Loading...

امریکہ ایران تنازع پر پاکستان کی تشویش

0

امریکہ اور ایران کے درمیان شدت اختیار کرتا ہوا تنازع خطے کے دوسرے ممالک خاص طور پر پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن کی دو روزہ کونسل آف فارن منسٹرز کی میٹنگ میں شرکت کے لیے کرغستان روانگی سے قبل کہا کہ وہ بشکیک میں چین اور روس سمیت دوسرے ملکوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، کیونکہ پاکستان کو ایران کے سیاق و سباق میں خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال پر تشویش ہے۔

وائس آف امریکہ نے اس سلسلے میں دو ماہرین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمان اور سینئر سفارتی نامہ نگار ماریانہ بابر سے بات کی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اور چین دونوں اپنی اپنی جگہ اس مسئلے پر ایک رائے رکھتے ہیں لیکن پاکستان، روس اور چین کے درمیان اس حوالے سے رابطوں کی ایک خاص اہمیت ہے، جو یہ ہے کہ اگر خطے کے تینوں ممالک کی ایک مشترکہ حکمت عملی ہو گی، تو اس کا وزن بھی یقینی طور پر زیادہ ہو گا۔ اور روس اور چین، امریکہ کی اس پالیسی کے بارے میں اپنی مخالفت کا اظہار پہلے بھی کر چکے ہیں۔

ماریانہ بابر کا کہنا تھا کہ پاکستان بجا طور پر اپنی تشویش کا اظہار کر رہا ہے اور یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ اس تنازع میں کسی کی طرف داری نہیں کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ جن ملکوں کے درمیان بھی تنازع ہے وہ بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ ہم بھی اسی خطے میں رہتے ہیں اور پاکستان سمیت خطے کے ممالک میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ کہیں واقعی جنگ نہ چھڑ جائے۔

خالد رحمان نے پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے اظہار تشویش کے سلسلے میں کہا کہ دنیا کو اس بارے میں پاکستان کے موقف کو سمجھنا چاہئے کہ پڑوس میں اگر عدم استحکام ہو گا تو پاکستان پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ جو گزشتہ چار عشروں سے افغانستان میں ہونے والے واقعات اور عالمی حالات سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے اس آڈیو لنک پر کلک کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...