Loading...

صدر کا باپ

0

ایک آدمی نیا نیا صدر الیکٹ ہو کر اپنے آفس میں داخل ہوا۔ وہ سینیٹ کے ممبران سے اپنی پہلی تقریر کرنے لگا تھا کہ ایک امیر بیوروکریٹ کھڑا ہوا اور اس کا مزاق اڑایا کہ آپ کو یاد ہے آپ کا باپ ایک موچی تھا۔ میں نے ابھی اس کے بنائے ہوئے جوتے پہن رکھے ہیں۔ سینیٹ میں موجود تمام ممبران ہنسنے لگے اور نئے صدر کا مزاق اڑایا۔ وہ ذرہ بھر بھی شرمندہ نہیں ہوا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا کہ

جی ہاں میں بخوبی اس بات سے واقف ہوں کہ میرا باپ ایک موچی تھا اور اس کی کمائی سے میں نے زندگی بھر اپنا پیٹ بھرا ہے۔ اگر آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس سے مجھے شرمندگی

محسوس ہو گی تو یہ آپ کی نیچ سوچ ہے جس کی وجہ سے میں آج صدر بنا ہوں اور آپ سینیٹ کے ممبران ہیں۔ میرا باپ سب سے اچھے جوتے بناتا تھا۔ اگر آپ میں سے کوئی ایک بھی اٹھ کر کوئی شکایت کرنا چاہتا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے جوتوں میں کبھی کوئی کھوٹ ہوتی تھی تو میں صدر ہونے کے لحاظ سے آپ کو کھلی چھٹی دیتا ہوں۔ مہربانی کر کے مجھے بتائیں اگر کسی کو اپنے جوتوں سے شکایت ہو؟ میں کسی کے خلاف ذاتی دشمنی نہیں رکھوں گا کیونکہ میں اگر انصاف پسند نہ ہوتا تو

آج ادھر نہ کھڑا ہوتا۔ سب لوگ شرمندگی سے نیچے دیکھنے لگے۔ وہ حیران تھے کہ یہ آدمی کس مٹی کا بنا ہوا ہے کہ ایسی بات کا بھی جواب دے گیا۔ اس نے بولا کہ مجھے اپنے باپ پر بہت ٖفخر ہے اور میرے لیے اس بات میں کوئی استحزا نہیں ہے۔ میرا باپ اپنا کام بہت محنت اور سچی لگن کے ساتھ کرتا تھا اور میں نے ان سے ہی سب کچھ سیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر کسی کو ان کے بنائے ہوئے کسی بھی جوتوں کے جوڑے سے شکایت ہے تو سچ میں مجھے بتائیں۔میں بھی موچی کا لڑکا ہوں اور جوتے بنانا اور ان کی مرمت کرنے کا ماہر ہوں۔ جس جس کو مسئلہ ہو۔ مجھے اپنے جوڑے لا دے میں چار سے آٹھ منٹ میں مرمت کر کے دے دوں گا۔ یہ اور بات ہے کہ

مجھے یقین ہے کہ کوئی ایک بھی ان کے بنائے ہوئے جوتوں سے تنگ نہیں ہو سکتا کیونکہ میں نے انہیں کام کرتے دیکھا ہے۔ ہاں میری مرمت میں نقص ممکن ہے۔ میرا باپ مجھ سے بہت بہتر تھا۔ اپنے صدر کے منہ سے ایسی عاجزی کی بات سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا اور وہ جان گئے کہ یہ آدمی کسی سفارش اور کرپشن کی بات کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ اس کی پہلی تقریر کاغذ پر کچھ اور تھی مگر کسی کم عقل کے مزاق کا نتیجہ اس کے حق میں بہت موثر تقریر بن گیا۔ حاصل سبق اس کہانی کے رائٹر کے مطابق یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے فارغ لوگ آپ پر تنقید کریں گے اور باتیں کسیں گے کیونکہ سب کا کوئی مقصد ہے۔ آپ ان باتوں پر کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں وہ آپ کی سوچ اور شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ انسان کو گرے ہوئے لوگوں کو جواب دینے کے لیے خود کو گرانا لازمی نہیں ہوتا۔ سب سے مفید جواب خاموشی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...