Loading...

فرشتہ قتل کیس، مبینہ غفلت کے تعین کے لیے جوڈیشل انکوائری کا اعلان

0

اسلام آباد میں 10 سالہ معصوم بچی فرشتہ کے قتل کے بعد ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ایس ایچ او اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے گی جو آئندہ سات روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔

مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

معصوم فرشتہ کی نماز جنازہ اسلام آباد کے ترامڑی چوک میں ادا کی گئی جس میں پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

فرشتہ زیادتی اور قتل کیس میں مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات دو گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہے۔ مظاہرین کی جانب سے آٹھ رکنی مذاکراتی ٹیم میں علی وزیر، محسن داوڑ اور عصمت شاہجہان شامل تھے، جبکہ انتظامیہ کی طرف سے مذاکراتی ٹیم میں ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات، اے ڈی سی وسیم خان اور ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید بھی شامل تھے۔

مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا کہ بچی کی گمشدگی کے بعد پولیس کی غفلت اور نااہلی پر ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کا حکم بھی دیا جا چکا ہے، جس کے مطابق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلاول ابڑو کو جوڈیشل انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔ تفصیلی رپورٹ سات دن کے اندر پیش کی جائے گی۔

دوسری جانب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کیس میں اہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو کہ مقتولہ بچی کا قریبی عزیز بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، ابھی تک اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل، پولیس نے بتایا تھا کہ تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے دو افغان شہری ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اس معاملے کو پارلیمان میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت پولس نظام میں تبدیلی کے دعوے کرتی ہے، لیکن تین دن تک فرشتہ کا خاندان تھانے کے چکر لگاتا رہا۔

شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ فرشتہ گمشدگی کی ایف آئی آر میں تاخیر کیوں کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ ’’صرف نوٹس لینے سے فرشتہ اور لواحقین کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ بتایا جائے واقعے میں ملوث لوگ کون ہیں؟حکومت مجرموں پر پردہ ڈالنے سے گریز کرے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی فرشتہ قتل اور زیادتی کا معاملہ پارلیمان میں اٹھائے گی۔

اسلام آباد کے نواحی علاقے شہزاد ٹاؤن میں دس سالہ بچی 15 مئی کو گھر سے کھیلنے کے لیے نکلی اور غائب ہوگئی۔ بچی کا والد اور بھائی پولیس اسٹیشن میں چار روز تک ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن، ایس ایچ او اور دیگر عملہ مبینہ طور پر ٹال مٹول سے کام لیتا رہا؛ اور بچی کے حوالے سے کہا کہ وہ خود کسی کے ساتھ چلی گئی ہوگی۔

تاہم، مہمند ایجنسی سے آنے والے ایک جرگہ کے کہنے پر پانچ روز بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور اس کے اگلے روز فرشتہ کی لاش شہزاد ٹاؤن میں قریبی جنگل سے برآمد ہوئی، جس کے بعد لواحقین کی طرف سے بھرپور احتجاج کیا گیا۔

معصوم فرشتہ کے اس قتل پر ملک میں ایک بار پھر زینب قتل کیس کی طرح احتجاج کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس واقعے کی بھرپور مذمت کی جا رہی ہے۔ ’جسٹس فار فرشتہ‘ اس وقت پاکستان میں ’ٹاپ ٹرینڈ‘ کر رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...