Loading...

دہشت گرد ’پی ٹی ایم‘ کے رہنماؤں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، پولیس کا انتباہ

0

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے سب ڈویژنل افسر نے ایک تحریری بیان میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ ایسی انٹیلی جینس رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’افغانستان کے دہشت گرد پی ٹی ایم کے قائدین کو ہدف بنا سکتے ہیں‘‘۔

بشمول علی وزیر، پی ٹی ایم کے جن چار رہنماؤں کا خصوصی طور پر نام لیا گیا ہے ان میں مولوی قاضی طاہر، حیات پرہغال اور شیر اللہ شامل ہیں۔

پولیس کے تحریری بیان میں انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ’’غیر ضروری سفر نہ کریں، اپنے سفر کا پروگرام کسی کو نہ بتائیں، عوامی اجتماعات سے اجتناب کریں اور اپنے گھر بار کے تحفظ کا خاص خیال رکھیں‘‘۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی پی او، سلیم ریاض نے بدھ کے روز ایک انٹرویو میں وائس آف امریکہ کی ’ڈیوا سروس‘ کو بتایا کہ ’’ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو سرکاری گارڈ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔

ادھر، ’ڈیوا سروس‘ سے بات کرتے ہوئے، پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی رہنما، علی وزیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس ضمن میں انھیں پولیس کی جانب سے تحریری بیان ملا ہے۔ ساتھ ہی، جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی پولیس کی جانب سے ٹیلی فون پر بھی انہی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

محافظ دینے سے متعلق ایک سوال پر، علی وزیر نے کہا کہ ’’ہمیں تو گارڈ دینے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن ہم اس کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے‘‘۔ ان کے بقول، ’’اگر ہم گارڈ لے لیتے ہیں اور ان کی موجودگی میں ہم پر حملہ ہوتا ہے، تو بعد ازاں حکومت بری الذمہ ہونے کا دعویٰ کرے گی‘‘۔

علی وزیر نے کہا کہ ’’اگر ہمیں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو ریاست اور ریاستی انٹیلی جینس ادارے اس کے ذمہ دار ہوں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ یہ انتباہ ایسے وقت دیا جا رہا ہے جب 10 سالہ معصوم بچی، فرشتہ مہمند سے انصاف برتنے کے مطالبے پر اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

علی وزیر نے الزام لگایا کہ ’’یہ خدشات، دراصل، ہمیں گھروں پر محصور رکھنے کا ایک حربہ ہیں‘‘۔

مولانا قاضی طاہر نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کے اداروں کی جانب سے انھیں اطلاع موصول ہوئی ہے، جس میں گھروں کا پتہ بھی لکھا ہوا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...