Loading...

لڑکی یا لڑکا؟ چین کے جنس بتانے پر پابندی کے قانون کا محور ہانگ کانگ بن گیا

0

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی، اے ایف پی کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ چینی سوشل میڈیا میں ایسے بہت سے لوگ کھلے عام اشتہار دے رہے ہیں کہ وہ حاملہ خواتین کے خون کے سیمپل ہانگ کانگ سمگل کر سکتے ہیں، جہاں حمل کی جنس کا پتا چلایا جا سکتا ہے، کیوں کہ مرکزی چین میں جنس معلوم کرنے کے ٹیسٹ پر پابندی ہے۔

یہ کاروبار زیر زمین نیٹ ورک کے ذریعے پھل پھول رہا ہے کیوں کہ مرکزی چین میں جنس معلوم ہونے پر اسقاط حمل کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ چین میں ایک عرصے تک ایک بچے کی پالیسی کی وجہ سے لوگ بیٹے کی ہی خواہش رکھتے ہیں۔

چینی حکام نے 2015 میں اس غیر قانونی کاروبار پر کریک ڈاؤن کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

مگر چین کے ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو میں درجنوں ایسے ایجنٹ کھلے عام خون کے سیمپل ہانگ کانگ سمگل کرنے کی پیشکش کرتے پائے جاتے ہیں۔

چین میں جنس معلوم کرنے کا ٹیسٹ سوائے طبی وجوہات کے مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اس کی وجہ جنس معلوم ہونے پر بڑے پیمانے پر کیے جانے والے اسقاط حمل کی وجہ سے آبادی میں تین کروڑ سولہ لاکھ لڑکے زائد ہیں جس کی وجہ سے آبادی میں ہر سو لڑکیوں پر 115 لڑکے پائے جاتے ہیں۔

2016 میں ایک بچہ فی خاندان پیدا کرنے کی پالیسی کو نرم کیا گیا تھا مگر پھر بھی جنس معلوم کرنے کا کاروبار عروج پر ہے۔ ان میں وہ بیٹیوں کے والدین پیش پیش ہیں جو دوسرا بچہ لڑکا ہی چاہتے ہیں۔

مرکزی چین کی نسبت ہانگ کانگ میں جنس معلوم کرنے کے ٹیسٹ کی اجازت ہے اور کچھ کلینک ایسے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے کہ یہ خون کے نمونے کہاں سے ان کے پاس لائے گئے ہیں۔

اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے جب ایک گاہک بن کر تین ایجنٹس سے بات کی تو انہوں نے محض 580 ڈالر کے عوض ہانک کانگ میں میڈیکل ٹیسٹنگ لیبز میں وقت لینے اور چھ ہفتے میں نتائج دینے کا وعدہ کیا۔

رقم کی ادائیگی کے بعد یہ ایجنٹ ایک ٹیسٹنگ کٹ ڈاک کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ ایک ایجنٹ نے تو ایک ایپ کا بھی بتایا جس کے ذریعے ایک نرس کی سہولت مل سکتی ہے جو خود گھر آ کر خون کے نمونے لے جائے گی۔

یہ خون کے نمونے پھر شین زین بھیجے جاتے ہیں جہاں سے یہ ہانک کانگ سمگل کئے جاتے ہیں۔ ان ایجنٹس نے رپورٹر کو ان نمونوں کی منتقلی کا طریقہ کار نہیں بتایا۔

کچھ ایجنٹ اس کام کے لئے انسانی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ فروری میں ایک بارہ برس کی لڑکی 142 خون کے نمونوں کے ساتھ ہانگ کانگ اور شین زین کے بارڈر پر پکڑی گئی۔

یہ کاروبار ہانگ کانگ کی میڈیکل لیبز کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

شہر کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2016 کے بعد تین گنا ایسے کیسز کی تحقیقات کی جا رہی ہے مگر ابھی تک ثبوت نہ ہونے کی بنا پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...