Loading...

ذاکر موسیٰ کی ہلاکت پر بھارتی کشمیر میں مظاہرے اور جھڑپیں

0

جمعے کو وادئ کشمیر میں عسکری کمانڈر ذاکر موسیٰ کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے خلاف عام ہڑتال کی گئی، جب کہ سری نگر اور چند دوسرے اضلاع میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کرفیو اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کیں۔

عہدیداروں نے کہا کہ سخت پابندیوں کا اطلاق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔ اس سے پہلے حکام نے حفاظتی اقدام کے طور پر علاقے کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے اور ٹرین سروسز کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جنوبی ضلع پُلوامہ کے علاقے ترال میں جمعرات کی شام کو محصور عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان جب جھڑپ شروع ہوئی تو فوراً ہی علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دیں گئیں تھیں۔

جمعے کو ترال میں ہزاروں افراد نے ذاکر موسیٰ کی تدفین میں شرکت کی۔ اس موقع پر سوگواروں نے حکومت مخالف اور بھارت سے آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

ذاکر موسیٰ کون ہے

ذاکر رشید بٹ عرف ذاکر موسیٰ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے مقبول کمانڈر برہان وانی کا ایک قریبی ساتھی تھا۔

جولائی 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ریاست میں تقریباً 6 ماہ تک جاری رہنے والی بدامنی کے دوران 80 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ اس دوراں ذاکر موسیٰ ریاست میں جاری مسلح تحریک کے ایک نمایاں چہرے کے طور پر سامنے آیا اور وہ فوراً ہی تحریک کو کچلنے پر مقرر فورسز کی نظروں میں آ گیا۔

سری نگر میں عہدیداروں نے بتایا کہ ذاکر موسیٰ بھارت کو انتہائی مطلوب افراد میں سرِ فہرست تھا۔ اُسے القاعدہ نے جولائی 2017 میں بھارت میں قائم کیے گئے اپنے ایک سیل ‘انصارغزوة الهند’ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

ترال کے ڈادہ سرہ نامی گاؤں میں ہونے والی اس جھڑپ کے متعلق پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایک نجی مکان میں محصور ذاکر موسیٰ کو ہتھیار ڈال کر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، لیکن انہوں نے حفاظتی دستوں پر دستی بم پھینکے اور خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ جس کے بعد جھڑپ میں وہ مارا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ذاکر موسیٰ سیکورٹی فورسز اور ان کی تنصیبات پر کئی حملوں میں ملوث تھا۔ اس کے خلاف عام شہریوں پر تشدد کرنے کے مقدمات بھی درج تھے۔ وہ مختلف مقدمات میں ایف آئی اے اور پولیس کو مطلوب تھا۔

حکومت مخالف مظاہرے اور جھڑپیں

جمعے کو وادئ کشمیر کے اُن علاقوں میں، جہاں کرفیو یا حفاظتی پابندیاں نہیں لگائی گئیں تھیں، ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے سوگ میں عام ہڑتال کی گئی۔ کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر بھارت مخالف مظاہرے کیے۔ حفاظتی دستوں نے مظاہرین اور پتھراؤ کرنے والے ہجوموں کے خلاف اشک آور گیس، ڈنڈوں اور چھرے والی بندوقوں کا استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سیکورٹی فورسز کے اہل کار بھی شامل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...