Loading...

پی ٹی ایم اور سیکورٹی فورسز کی جھڑپ: سیاسی جماعتوں کا رد عمل

0

شمالی وزیرستان میں پاکستان فوج اور پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان ہونے والے تنازعہ کے باعث تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کی تصدیق پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کر دی ہے۔ پاکستان فوج نے اسے چیک پوسٹ پر حملہ قراردیا ہے۔

چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم اور پاکستانی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے بیانات آنا شروع ہو چکے ہیں اور زیادہ تر جماعتوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی منتخب نمائندہ ایسا حملہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تشدد پر افسوس ہوا ہے لیکن پرامن اور منتخب لوگوں کو اجتجاج کرنے کا حق ہے اور ان پر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کسی کے مؤقف سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن فاٹا کے لوگوں کے تحفظات کو دور نہیں کیا جائے گا تو مسائل ہوں گے اور اگر ہم اپنے ہی سیاستدانوں کو غدار کا لیبل دیں گے تو یہ معاملہ خطرناک راستے کی طرف چلا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے خاڑ کمر میں اندوہناک واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ کے تمام حقائق پارلیمان کے سامنے آنے چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر سیاست کرنا قومی جرم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام محبان وطن صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے فوری طور پر اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اپنے گھر میں لڑائی، فساد اور افراتفری کا فائدہ دشمنوں کو ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس نوعیت کے سانحات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور حالات کی نزاکت اس بات کی متقاضی ہے کہ تدبر، سمجھداری اور قومی مفاد کی پاسداری کی جائے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو لوگ اس واقعہ میں جاں بحق ہوئے یا زخمی ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری دنیا میں لوگوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے اور انہیں اس سے روکنا اشتعال اور شدت کو جنم دیتا ہے۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے جبکہ آج عام آدمی ریاست اور حکومت کے ہاتھوں خود کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاستی قوت آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے عوام سے صبر و تحمل اختیار کرنے اور پرامن رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔

مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے پشتون تحفظ موومنٹ پر غیرملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر مسلسل پاکستان مخالف سرگرمی میں ملوث تھے جبکہ قبائلی عوام اس گروہ سے لاتعلق ہیں اور کچھ شرپسند عناصر ملکی ترقی کے راستے میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ یہ سازشیں دم توڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی بہت بڑی قربانی دی ہے اور اب دوبارہ یہاں شرپسندوں کو کسی طور نہیں آنے دیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پی ٹی ایم رہنما چیک پوسٹ پر پہنچ کر چند روز قبل حراست میں لیے گئے مشتبہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ سیکورٹی اہل کاروں نے پی ٹی ایم کی اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔ تاہم پی ٹی ایم کی جانب سے چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد ہلاک اور پندرہ افراد زخمی ہو گئے جن میں پانچ سیکورٹی اہل کار بھی شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ محسن جاوید موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں اس کے رہنماؤں اور کارکنوں پر ہونے والی مبینہ فائرنگ کے نتیجہ میں 25 کارکن زخمی ہو گئے ہیں۔ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

اس معاملہ پر عوامی نیشنل پارٹی کے سردار بابک نے کہا کہ پرامن مظاہرین پر گولیاں برسانا درست نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایسا کر کے پاکستانی عوام کو کیا پیغام دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے عوام کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا اور حکومت کے جو مشیر انہیں ایسے مشورے دے رہے ہیں وہ انہیں خونی انقلاب کی طرف لے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ کی خصوصی مصالحتی کمیٹی نے میرانشاہ واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ کمیٹی کے کنوینر بیرسٹر سیف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعے پر سیاست چمکانا افسوسناک ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات کی نزاکت کو سمجھنا ضروری ہے اور ہر پاکستانی کو قومی مفاد کا خیال رکھنا ہو گا۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی ایم قیادت کو دو بار کمیٹی اجلاس میں بلایا گیا کیونکہ تمام تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپس کے جھگڑوں سے پاکستان کو نقصان اور دشمن کو فائدہ ہو گا۔ کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ اور فریقین سے ملاقاتوں کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر ’’وی سٹینڈ ود پاکستان آرمی‘‘ اور ’’سٹیٹ اٹیک پی ٹی ایم ‘‘ کے ہیش ٹیگ چل رہے ہیں۔ پی ٹی ایم نے عیدالفطر کے تیسرے دن جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا می میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کشیدہ صورتحال میں اس جلسے کا انعقاد بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...