Loading...

صحت کہانی: غریب مریضوں کے علاج معالجے کا منفرد نیٹ ورک

0

پاکستان میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے جس کے باعث ملک کی تقریباً نصف آبادی کو صحت کی مستند سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ۔اس صورت حال کو بدلنے کے لیے دو نوجوان میڈیکل گریجویٹس خواتین نے صحت کہانی کے نام سے ایک منفرد نیٹ ورک قائم کیا ہے جس کی مدد سے وہ پسماندہ علاقوں میں غریبوں اور متوسط طبقے کو صحت کی معیاری سہولت فراہم کر رہی ہیں۔

32 سالہ ڈاکٹر سارہ سعید خرم اور ان کی ساتھی ڈاکٹر عفت ظفر نے دو سال قبل 2017 میں’ صحت سہولت ‘ کے نام سے ای میڈیسن کا ایک منفرد ادارہ قائم کیا۔

پاکستان کے خصوصاً پسماندہ علاقوں کے غریب افراد کو جدید ای میڈیسن کی سہولت کی فراہم کرنے کے لیے اب تک ملک بھر کے دیہی اور شہری علاقوں میں صحت کہانی کے25 کلنک قائم ہو چکے ہیں،جن پر تین افراد کا عملہ تعینات ہوتا ہے۔

پاکستان کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر کلنک پر ایک میڈوائف کو خصوصی تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ نہ صرف مریض کے ابتدائی ٹیسٹ لے سکے بلکہ انہیں کمپیوٹر کے ذریعے کسی مستند ڈاکٹر کو بھیج بھی سکے۔ ہر کلنک پر الڑا ساونڈ اور لیب کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

اس وقت صحت کہانی نیٹ میں تقریباً 1500 ڈاکٹر رجسٹرڈ ہیں، جن میں اپنے شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد شامل ہے۔ جب کہ اس تحریک میں مزید ڈاکٹر بھی شامل ہو رہے ہیں۔

صحت کہانی سے منسلک خاتون ڈاکٹرز گھر بیٹھے ہی مریض کو دیکھتی ہیں اور پرائمری کیئر میں ان کی بیماری کی تشخص کر کے دوائیاں تجویز کرتی ہیں اور اس تشخیص کا باقاعدہ کمپیوٹرائز ریکارڈ تیار کیا جاتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر بڑے اسپتالوں میں ریفر کر دیا جاتا ہے۔

پروگرام کی بانی ڈاکٹر سارہ سعید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان سامنے ملک میں صحت سے متعلق دو اہم ترین مسائل تھے۔ ایک تو یہ کہ پاکستان میں مستند ڈاکٹروں کی شدید قلت ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیکل کالجوں سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے 14 ہزار ڈاکٹروں میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے جن میں سے زیادہ میڈیکل پاس کرنے کے بعد پریکٹس نہیں کرتیں اور شادی کر کے گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ بہت سے مرد ڈاکٹر بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونی ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے باعث ملک میں ڈاکٹروں کی قلت ہو جاتی ہے اور لگ بھگ نصف آبادی مستند ڈاکٹروں تک رسائی سے محروم رہ جاتی ہے۔

ڈاکٹر سارہ سعید کے مطابق ان کے ادارے نے پریکٹس نہ کرنے والی خواتین ڈاکٹرز کو نہ صرف گھر بیٹھے کام کے لیے آمادہ کیا بلکہ انھیں خصوصی تربیت دے کر پیشہ وارانہ بنیاد پر اپ ڈیٹ بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی انھیں ویڈیو کانفرنس کی سہولت بھی فراہم کی ہے تاکہ اگر وہ کسی مریض تک عملی طور پر نہیں پہنچ سکتیں ہیں تو گھر بیٹھے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے اس کی تشخیص اور دوا تجویز کر سکیں۔

ڈاکٹر سارہ سعید کہتی ہیں کہ مستند ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں زچہ و بچہ کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ جب کہ نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک اس شرح میں کمی لا چکے ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ صحت کہانی کا پروگرام اس شرح کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ڈاکٹر سارہ سعید کے مطابق ملک میں پرائمری ہیلتھ کیئر کا منظم نظام نہ ہونے کی وجہ سے شہروں کے بڑے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں پر بہت دباؤ ہے۔ جن مریضوں کا علاج پرائمری کیئر میں کیا جا سکتا ہے وہ بھی بڑے اسپتالوں کا ہی رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے کلنکس میں آنے والے مریضوں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر ماہر ڈاکٹروں کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سارہ نے بتایا کہ صحت کہانی کے طبی مراکز میں صحت کی تعلیم بھی دی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو بیماریوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہو اور معمولی امراض کا گھر بیٹھے خود ہی علاج کر سکی۔ اس کے علاوہ انہیں بیماریوں سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے متعلق بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر سارہ سعید کہتی ہیں کہ صحت کہانی کے نام سے ایک کمپیوٹر ایپ بھی تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے مریض گھر بیٹھے مستند ڈاکٹروں سے مشورہ لے سکتا ہے۔ اس ایپ سے شہری علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد فائدہ اٹھا رہی ہے۔

ڈاکٹر سارہ کہتی ہیں کہ ان کے میڈیکل نیٹ ورک سے 86 ہزار مریض فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ حال ہی میں اس نیٹ ورک میں بیرونی ملکوں میں مقیم ڈاکٹروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جس سے اب یہ سروس 24 گھنٹے دستیاب ہے۔

ڈاکٹر سارہ کا ہدف یہ ہے کہ وہ 2023 تک اپنے کلینکس کی تعداد 100 تک بڑھنا اور تقریباً ایک کروڑ افراد کو صحت کی سہولتوں تک رسائی فراہم کرنا چاہتی ہیں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پی ایم ڈی سی کے سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید کہتے ہیں کہ پاکستان میں 6 لاکھ ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 225 ہے، جب کہ نرسوں کی تعداد صرف 77 ہزار 683 ہے۔

ڈاکٹر مسعود حمید کے مطابق ایک تخمینے کے مطابق صرف پچاس ہزار کے لگ بھگ ڈاکٹر ملک میں پریکٹس کر رہے ہیں، بقیہ یا تو کوئی اور کام کر رہے ہیں یا پھر پاکستان سے باہر جا چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک مریض کے علاج معالجے پر سالانہ تقربیاً سوا نو ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں جب کہ بین الاقوامی معیار سالانہ 60 ڈالر ہے۔

صحت کہانی تحریک شروع کرنے والی پاکستان کی نوجوان ڈاکٹر سارہ سعید کو پاکستان میں ہیلتھ کیئر سے متعلق نئی سوچ متعارف کرانے پر امریکہ کے ایک معتبر اور معروف رولکس ایوارڈ برائے 2019 کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جسے وہ آئندہ ماہ واشنگٹن میں ایک تقریب میں وصول کریں گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...