Loading...

پشاور: پولیس نے پی ٹی ایم کا دھرنا منتشر کر دیا

0

پشاور کے علاقے حیات آباد میں خڑ کمر شمالی وزیرستان کے واقعہ کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کا دھرنا گزشتہ پانچ دنوں سے جاری تھا، جسے گزشتہ رات پولیس نے شہر میں عیدالفطر کی سیکورٹی کے لیے نافذ کی جانے والی دفعہ 144 کے بعد زبردستی ختم کروا دیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ کی 26 تاریخ کو شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر چیک پوسٹ پر سیکورٹی فورسز اور پی ٹی ایم کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی، جس کے بارے میں دونوں فریقوں کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے تھے۔

پی ٹی ایم کے مطابق اس جھڑپ میں 13 مقامی افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے ایک گروپ نے سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس پر سیکورٹی اہل کاروں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی۔ لوگوں کو حملے پر اکسانے کے الزام میں سیکورٹی فورسز نے وزیرستان سے منتخب ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو گرفتار کر لیا تھا۔

علی وزیر کی رہائی کے لیے وزیرستان اور پشاور میں پشتون تحفظ موومنٹ نے دھرنا شروع کیا، تاہم دھرنے کے شرکاء نے حکومت سے مذاکرات کے بعد وزیرستان کا دھرنا ملتوی کر دیا تھا۔

جب کہ پی ٹی ایم پشاور نے علی وزیر کی رہائی تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

پشاور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کے ترجمان الیاس سدوزئی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پولیس نے دھرنے کے شرکاء کو گزشتہ پانچ دنوں سے مکمل سیکورٹی فراہم کی ہوئی تھی، تاکہ شرپسند عناصر انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں چاند رات اور عید کے موقع پر رش بڑھنے سے سیکورٹی خدشات پیدا ہو گئے تھے جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے کارکنوں کو قانون کی پاسداری کرنے اور سیکورٹی کی صورت حال کے باعث دھرنا ملتوی کرنے کے لیے کہا گیا جس پر انہوں نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل کر ٹریفک میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ جس کے صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کر کے انہیں منتشر کرنا پڑا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک کارکن نیازبین ملنگ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پولیس کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی کارروائی کے وقت دھرنے میں صرف 25 کارکن موجود تھے جنہیں منتشر کرنے کے لیے 200 کے قریب پولیس فورس بھیجی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس چاہتی تو انہیں گرفتار بھی کر سکتی تھی، لیکن پولیس نے تشدد کا راستہ اختیار کیا جس سے ہمارے کئی ساتھی زخمی ہو گئے۔

بیازبین ملنگ نے کہا کہ دھرنے کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے جب کہ عید کے تیسرے روز دوبارہ وہیں دھرنا دیا جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...