Loading...

بھارتی کشمیر میں جاری شورش کے معیشت پر اثرات

0

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری شورش ریاست کے معاشی حالات پر بری طرح اثر انداز ہوئی ہے۔ خاص طور پر جولائی 2016 میں معروف عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کی بھارتی فوج کے ساتھ مبینہ جھڑپ میں ہلاکت سے پیدا شدہ غیر یقینی صورتِ حال نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا، وہیں یہ ریاست کی معاشی تنزلی کا باعث بھی بنی ہے۔

ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادئ کشمیر میں پانچ ماہ تک جاری رہنے والی بدامنی کی وجہ سے ریاست کو سولہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان اُٹھانا پڑا تھا۔

اکنامک سروے پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدامنی ‘زبردست تکالیف اور مصیبتوں، انسانی جانوں کے ضیاع، کروڑوں روپے کی مالیت کی املاک کی تباہی اور اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں میں مکمل ٹھہراؤ ‘ کا باعث بن گئی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست بالخصوص وادئ کشمیر کی معیشت، جہاں شورش بلا تخفیف جاری ہے، حکومتی اداروں اور دوسرے اسٹیک ہولڈروں کی مسلسل اور انتھک کوششوں کے باوجود سنبھل نہیں پائی ہے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ سیاحت کا ہے۔ اگرچہ متعلقہ محکمہ سیاحوں کی آمد کے حوالے سے ایک خوشنما تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ٹورسٹ ٹریڈ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے گزشتہ تین برس کے دوران سیاحوں کی ایک انتہائی قلیل تعداد نے جنتِ نظیر کہلائی جانے والی وادئ کشمیر کا رخ کیا۔ نتیجتاً سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ جن میں ہوٹل اور ہاؤس بوٹ مالکان، شکارے (کشتی)، گھوڑے بان، ٹیکسی چلانے والے اور کشمیری دستکاریاں تیار اور ان کا کاروبار کرنے والے شامل ہیں، تقریباً بے کار بیٹھے ہیں۔ بھارت کے زیر اتنظام کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد سیاحت کی صنعت سے بالواسطہ یا بلا واسطہ روز گار کماتے ہیں۔

پرائیویٹ ٹور آپریٹرز اور محکمہ سیاحت کی کئی برس کی کوششوں کی وجہ سے 2012 سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے کشمیر کا رخ کرنا شروع کیا تھا لیکن برہان وانی کی ہلاکت کے بعد تشدد، مظاہروں اور ہڑتالوں کے طویل سلسلے سے اس شعبے کو شدید دھچکا لگا۔ اس سال فروری میں جنوبی ضلع پُلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز پر مہلک حملے کے بعد سیاحت کو ایک بار پھر نقصان پہنچا ہے۔

پُلوامہ حملے کے بعد امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے اپنے شہریوں کو کشمیر نہ جانے کا مشورہ دیا۔ سیاحت کی صنعت سے وابستہ بعض افراد کا الزام ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے حصے، بالخصوص نجی ٹیلی ویژن چینلز کے کشمیر کی خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی روش نے بھی کشمیر کی سیاحت کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔

ایک ٹور آپریٹر رؤف ترنبو کا کہنا ہے، ” کشمیر میں تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے۔ نامساعد صورتِ حال کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تاہم 2004 کے بعد جب حالات میں سدھار آنے لگا تھا، ہم یہ توقع کر رہے تھے کہ یہ صنعت اب بحال ہو گی۔ لیکن گزشتہ تین برس سے حالات لگاتار خراب چلے آ رہے ہیں۔ نیز بھارتی میڈیا نے کشمیر کے بارے میں مسلسل ایک منفی مہم چلائی جس سے کشمیر کی سیاحتی صنعت کو بالواسطہ شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا، “ہمیں امید تھی کہ اس سال صورتِ حال میں بہتری آئے گی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ سیاحت کی صنعت سے جڑے لوگوں کا روزگار بُری طرح متاثر ہوا ہے”۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کشمیر کی اندرونی صورتِ حال نے سیاحت کے ساتھ ساتھ کاروبار کے دوسرے شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ مظاہروں، تشدد، عسکریت پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں، کرفیو اور ہڑتالوں کے نہ رکنے والے سلسلے کی وجہ سے زندگی کے معمولات اکثر درہم برہم رہتےہیں اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہیں۔

سرکردہ تاجر اور کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عاشق نے بتایا کہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری شورش نے ریاست کی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہماری معیشت یہاں جاری شورش کی وجہ سے کچلی گئی ہے بلکہ ریزہ ریزہ ہو چکی ہے۔ ریاست مضطر و مختل ہے اور حالات کاروبار کرنے کے لیے موافق نہیں ہیں۔ ہماری معیشت کے جتنے بھی شعبے ہیں چاہے وہ باغبانی کا شعبہ ہو، دستکاریوں کا شعبہ ہو یا سیاحت کا یہ نامساعد حالات کی وجہ سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ریاست کو شورش کی وجہ سے ہر سال ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک متنازعہ ریاست میں تعمیر و ترقی کا سلسلہ بھی متاثر ہو جاتا ہے۔ ایسا یہاں بھی ہو رہا ہے۔‘‘

سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا “اگر ہم سیاحت کے شعبے کی بات کریں تو اس وقت پِیک سیزن کے باوجود ہوٹل، ہاؤس بوٹ اور دوسرے مہمان خانے دس فیصد سے بھی کم تصرف میں ہیں۔ جب سیاح نہیں آتے تو ہماری دستکاریوں کی صنعت بھی متاثر ہو جاتی ہے اور دستکاریوں کے شعبے کے متاثر ہونے سے ہماری پوری معیشت اثر انداز ہو جاتی ہے۔ مجموعی اقتصادی صورتِ حال گزشتہ چند سال سے انتہائی خراب چلی آ رہی ہے۔ پورا تاجر طبقہ بے حد پریشان ہے‘‘۔

شیخ عاشق کا یہ بھی کہنا تھا کہ “ہمارا مقابلہ بھارت کی دوسری ریاستوں سے ہے کیونکہ بھارتی ریزرو بینک نے تجارت کے جو اصول اور معیار مقرر کر رکھے ہیں ان کا سبھی ریاستوں پر اطلاق ہوتا ہے۔ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، گوڑس اور سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) اور دوسرے محصولات کے قوانین بھی ایک جیسے ہیں۔ لیکن یہاں کاروبار ہڑتالوں، کریک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے چھ چھ ماہ تک بند رہتا ہے۔ ایسے میں ہم دِلی اور ممبئی جیسے میٹروپولیٹن شہروں کی تاجر برادری سے مقابلہ کریں تو کیسے”۔

سری نگر کے مرکزی بازار لال چوک کے ایک دکاندار نواز احمد بابا نے وائس آف امریکہ کو بتایا، “ہڑتالوں، کریک ڈاون اور تشدد کی وجہ سے ہمارا کاروبار بے حد متاثر ہوتا ہے۔ 1990 سے (جب ریاست میں مسلح تحریک کا آغاز ہوا) دکانیں اور دوسرے کاروباری ادارے مجموعی طور پر تقریباً پانچ سال بند رہے‘‘۔

انہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اُن کے پاکستانی ہم منصب عمران خان سے اپیل کی کہ وہ “ضد چھوڑ دیں اور مل بیٹھ کر افہام و تفہیم کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کا پائیدار حل ڈھونڈ لیں تاکہ ہمیں اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل ہو جائے”۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...