Loading...

جنگی جہازوں کی ممکنہ ٹکر، امریکہ اور روس کے الزامات

0

امریکہ اور روس نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے کہ بحرالکاہل میں فلپائن کے پانیوں میں ان کے جنگی جہاز قریب آنے سے ٹکراوؑ کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق امریکہ کا ساتواں میزائل بردار بحری بیڑا یو ایس ایس ‘چانسلرزویل’ اور روس کا جنگی جہاز بحرالکاہل میں محض 50 میٹر کے فاصلے پر آ گئے تھے۔

امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر روسی حکام کو باضابطہ طور پر احتجاجی مراسلہ ارسال کریں گے۔ جبکہ دونوں ممالک کی افواج بھی اس معاملے پر رابطے میں رہیں گی۔

امریکہ وزیر دفاع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ اس واقعے کے باوجود خطے میں اپنے بحری آپریشن جاری رکھے گا۔

روس نے واقعے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا جہاز روسی جہاز کے صرف 50 میٹر کی دوری پر تھا، جس سے بچنے کے لیے اسے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔

امریکی جہاز کے عملے کے مطابق روس کا جنگی جہاز ایڈمرل ونوگرادوف ان کے جہاز کے قریب آگیا تھا تاہم فوری طور پر اقدامات کرتے ہوئے دونوں جہازوں کو تصادم سے بچا لیا گیا۔

امریکہ کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر معمول کے گشت کے بعد جہاز پر لینڈنگ کرنے ہی والا تھا کہ اس دوران روسی جہاز نے امریکی جہاز کے قریب آنے کی کوشش کی۔

جاپان میں تعینات ساتویں امریکی بیڑے کے ترجمان کموڈر کلے ڈوس نے الزام لگایا کہ کہ روسی جہاز نے سمندر میں حفاظتی اقدامات کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

روسی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے جنگی جہاز نے اچانک اپنا رخ موڑ کر روسی جہاز کی جانب کر دیا۔ ان کے بقول فوری طور پر ریڈیو پیغام کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے۔

امریکہ اور روس سرد جنگ ختم ہونے کے باوجود بھی مختلف عالمی تنازعات میں ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں۔ یوکرین اور شام کے تنازعے سمیت امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملات بھی دونوں عالمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنتے رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی دونوں ممالک ہوا اور سمندر میں ایک دوسرے پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...