Loading...

ٹرمپ اور میکرون کی دوستی کا ’درخت‘ سوکھ گیا

0

فرانس کے صدر ایمنوئل میکرون گزشتہ برس اپریل میں اپنے دورہ امریکہ کے موقع پر اوک یعنی شاہ بلوط کا ایک پودا تحفے کے طور پر لائے تھے جسے وائٹ ہاؤس کے جنوبی حصے کے لان میں امریکی صدر ٹرمپ اور فرانسیسی صدر میکرون نے ایک ایسے بیلچے کی مدد سے لگایا تھا جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ لیکن اب فرانس کے ایک اخبار لی مونڈے نے دوستی کے اس درخت کے سوکھ جانے کی خبر دی ہے۔

امریکی قوانین کے تحت اس غیر ملکی درخت کو تقریباً دو برس تک قرنطینہ میں رکھنے کے لیے بھیج دیا گیا جس کے دوران وہ سوکھ گیا۔

فرانسیسی صدر کا یہ دورہ صدر ٹرمپ کے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد کسی اہم ملک کے سربراہ کا پہلا دورہ تھا۔ تاہم بعد میں صدر ٹرمپ اور فرانسیسی صدر میکرون کے باہمی تعلقات خوشگوار نہیں رہ سکے۔ گزشتہ برس میکرون ’’امریکہ پہلے‘‘، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے اور ماحولیاتی تبدیلی پر پیرس معاہدے سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے رہے۔

ستمبر 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں میکرون نے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی مسائل کے حل کے لیے کسی ملک کو تنہا کر دینے کی بجائے بات چیت ہی بہتر راستہ ہے۔

تاہم گزشتہ ہفتے فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے دوران نارمنڈی حملے کی یاد سے متعلق تقریبات میں دونوں صدور نے قدرے گرم جوشی کا مظاہرہ کیا تھا اور دونوں تمام تقریبات میں ساتھ ساتھ رہے تھے۔

یہ درخت فرانس کے بیلو ووڈ جنگلات سے لایا گیا تھا جہاں پہلی عالمی جنگ کے دوران تین ہفتے تک جاری رہنے والی لڑائی میں ہزاروں امریکی میرین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

فرانسیسی صدر میکرون نے گزشتہ اپریل میں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر یہ درخت لگانے کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ امریکی فوجیوں نے فرانس کا دفاع کرتے ہوئے اپنا خون بہایا تھا۔ تاہم درخت لگانے کی تقریب کے کچھ ہی دیر بعد چار فٹ لمبے اس درخت کو وہاں سے اکھاڑ کر اسے امریکہ کے جانوروں اور درختوں کی صحت سے متعلق ادارے کی تحویل میں دے دیا گیا جس نے اسے میری لینڈ میں واقع اپنی تنصیب میں قرنطینہ میں رکھ دیا۔

ادارے کے اہل کاروں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ امریکی قوانین کے تحت کسی بیرونی ملک سے لائے گئے درخت کو دو سال کی مدت تک قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس درخت پر موجود کسی قسم کی کائی مقامی امریکی مٹی کو متاثر نہ کرے۔ یوں یہ معمول کا اقدام تھا۔

تاہم یہ درخت زندہ نہیں رہ سکا اور قرنطینہ کے دوران ہی سوکھ گیا۔ کچھ لوگ اسے امریکہ اور فرانس کے تعلقات کے حوالے سے بدشگونی بھی قرار دیتے ہیں۔

تاہم فرانس کے صدر میکرون نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ مذکورہ درخت کے سوکھ جانے کے بعد صدر ٹرمپ کو ایک اور درخت بھجوائیں گے تاکہ وہ اسے امریکہ فرانس دوستی کی علامت کے طور پر وائٹ ہاؤس کے لان میں دوبارہ لگا سکیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...