Loading...

مجھے کوئی اضافی بات نہیں کہنی: ٹرمپ جونیئر کا سینیٹ کمیٹی کے سامنے بیان

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بیٹے، ڈونلڈ ٹرمپ جونئیر بند کمرے کی سماعت کے لیے بدھ کے روز سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ اس کے بعد، انھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ان کے جوابات وہی ہیں جو انھوں نے کمیٹی کے سامنے 2017ء کی سماعت کے دوران دیے تھے۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ آج کی سماعت میں ماسکو میں ٹرمپ ٹاور کے منصوبے کے علاوہ روسی وکیل سے ملاقات پر مرکوز رکھیں گے۔ روسی وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ 2016ء کی صدارتی مہم سے متعلق ان کے پاس ایسی معلومات ہے جو ٹرمپ سینئر کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

سینیٹ میں پیشی کے بعد ٹرمپ جونیئر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ اس سے پیشتر جو کچھ میں نے کہا تھا، اس کے علاوہ میرے پاس کہنے کے لیے کوئی مختلف بات ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آخر کار یہ مرحلہ ختم ہوا۔ ہم اس قابل ہوئے کہ معاملے کی حتمی وضاحت پیش کی جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ کمیٹی یہ بات سمجھتی ہے‘‘۔

جب ان سے پوچھا گیا آیا انھیں یہ پریشانی تو لاحق نہیں کہ ان کے خیالات دروغ حلفی کے زمرے میں آ سکتے ہیں، تو اُن کا کہنا تھا، ’’ہرگز نہیں‘‘۔

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رچرڈ بَر سینیٹ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ دونوں سیاسی جماعتوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں جو امریکی سیاست میں مبینہ روسی مداخلت کی چھان بین کر رہی ہے، جس میں 2016ء کی صدارتی مہم شامل ہے۔

حالانکہ خصوصی تحقیقاتی افسر، رابرٹ ملر نے اس معاملے پر اپنی چھان بین کی رپورٹ دے دی ہے آیا ٹرمپ کی انتخابی مہم کا روس کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ تھا یا پھر اس امکان کا کہ مبینہ طور پر صدر انصاف کی راہ میں آڑے آئے۔

ٹرمپ جونیئر اپنے بھائی، ایرک کے ہمراہ اِن دنوں ’ٹرمپ آرگنائزیشن‘ کی سربراہی کرتے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی وسیع تر موضوعات پر تحقیقات کر رہی ہے، جس میں ماسکو کے ٹرمپ ٹاور پراجیکٹ کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس سے قبل، ٹرمپ جونیئر سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے، جسے اس منصوبے کے بارے میں ’’زیادہ آگہی‘‘ نہیں تھی۔

لیکن، صدر کے سابق وکیل، مائیکل کوہن نے ٹرمپ جونیئر کی شہادت کی تردید کی تھی۔

روس میں یہ منصوبہ کبھی مکمل نہیں ہوا۔ تاہم، اسے اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ صدر اور ان کی کمپنی روس میں منافع بخش کاروباری معاہدے کے لیے کوشاں تھی، جب کہ، امریکی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق، روسی حکومت صدارت کے انتخابی امیدوار کی مہم میں مدد دینے کے لیے ہیکنگ اور پروپیگنڈا مہم جاری رکھے ہوئے تھی۔

اُس وقت، ابتدا میں ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی تھی کی ان کے روس کے ساتھ کسی قوم کے کاروباری روابط ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...