یخنی اور مختلف ذائقے دار سوپ

اس میں شامل مکمل غذائی خواص اسے ممتاز بناتے ہیں

مزید خبریں

موسم سرما کا ذکر ہو اور جسم کو گرما دینے والی غذاؤں کی فہرست میں سوپ کا نام نہ شامل ہو یہ تو ممکن ہی نہیں۔ گو کہ سوپ کو اکثر افراد ہر موسم میں یا یوں کہیے کہ موسم کی پروا نہ کرتے ہوئے کھانے سے کچھ دیر پہلے لینا اس لیے پسند کرتے ہیں کہ یہ بھوک کھولنے کے کام آتا ہے۔

سوپ ایک بھرپور غذا ہے جو افادیت کے لحاظ سے لاجواب ہے۔ جسمانی کمزوری اور بیماری میں بطور توانا غذا کے، سوپ بہترین خیال کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے مرغی اور مٹن کا سوپ تو بے حد مفید ہے۔ موسم سرما کے اثرات سے محفوظ رہنے یا سردی کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے، سینے کا بلغم اور گلے کی خراش دور کرنے کے لیے  مرغی کے سوپ میں انڈا شامل کرکے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

دیسی مرغی سے تیار کردہ یخنی بچوں، بوڑھوں کو توانائی بخشنے کے ساتھ بیمار اور کمزور لوگوں کی قوت بحال کرنے کے لیے  بے حد مفید ہے۔ ضروری نہیں کہ سوپ کو صرف گوشت کے ساتھ تیار کیا جائے۔ سبزیوں سے تیار کردہ سوپ بھی انتہائی لذیذ اور قوت بخش ہوتا ہے اور اس کے لیے  اگر محض ایک سبزی کے بہ جائے تین چار سبزیاں ملاکر سوپ تیار کیا جائے، تو اس کی غذائی افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

سبزیوں سے تیار کردہ سوپ بچوں کی بھوک بڑھانے کے لیے  بھی مفید ہے۔ ہفتے میں تین مرتبہ مختلف سبزیوں کا سوپ ان کی جسمانی نشوونما میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کے لیے  دال کا سوپ بھی ایک مکمل غذا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مکئی کے دانے جو فوائد اور ذائقے کے حساب سے بہترین خیال کیے جاتے ہیں۔ سوپ میں استعمال کیے جائیں، تو جہاں سوپ کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے، وہیں سوپ کی افادیت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ مکئی کے دانوں میں وٹامن کا خزانہ موجود ہے۔ چکن سے بنے سوپ میں مکئی اور سبزیوں کو شامل کر کے ایک پیٹ بھرنے والی مکمل غذا تیار کی جا سکتی ہے، جس میں وافر مقدار میں ریشہ پایا جاتا ہے۔

سردیوں میں عموماً ہم پانی اور دیگر مشروبات کم استعمال کرتے ہیں، ایسے میں جسم میں ہو جانے والی پانی کی کمی کو چائے اور کافی کے بے جا اور کثرت سے استعمال کے بہ جائے سوپ کو استعمال کرنا زیادہ عقل مندانہ انتخاب ہے۔

چھوٹے بچے اور کمزور یا بوڑھے افراد جو سبزیاں اور گوشت چپا نہیں سکتے، ان کے لیے  سبزی کا سوپ اور چکن کا سوپ بنا کر بلنڈ کرلیں اور ہلکا سا نمک اور کالی مرچ شامل کر کے دیں، تو وہ بھی سبزی اور چکن کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔ ٹماٹر اور پالک کا خوش ذائقہ اور مقبول عام سوپ اس کی عام مثالیں ہیں۔

سوپ نظام ہاضمہ کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے  بھی کار آمد ہے۔ یہ بھوک بڑھاتا ہے، جلد ہضم ہو جانے والی غذا ہے۔ سیال ہونے کے باوجود پیٹ بھرنے والی ایسی ہلکی غذا ہے جو قبض اور گیس کے مریضوں کے لیے  لاجواب ہے۔ بلند فشار خون، کولیسٹرول ، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے  سوپ دوا اور غذا دونوں کا کام کرتا ہے۔

بخار، نمونیہ اور فلو کے مریضوں کے جسم سے سردی کے اثرات ختم کرنے، انہیں توانائی فراہم کرنے والے ٹانک کا بھی کام کرتا ہے۔ سوپ ہڈیوں، جوڑوں اور پٹھوں کو طاقت فراہم کرنے ان کی اینٹھن اور درد سے بھی آرام پہنچاتا ہے۔

گلے کی سوزش، خراش اور حلق کے ورم کو دور کر کے سینے کی جکڑن اور بلغم صاف کرکے مریض کو آرام اور سکون پہنچاتا ہے۔

لیکن بیماری میں سوپ استعمال کرتے وقت اسے نمک، مرچ مسالوں اور سوسز سے چٹ پٹا بنانے سے گریز کریں، نمک اور کالی مرچ محض ذائقہ فراہم کرنے کے لیے  استعمال کرنا چاہیے۔ سوپ میں موجود چکن، مٹن اور سبزیوں سے ذائقہ حاصل کرنے کے لیے  اس کو ہلکی آنچ پر دیر تک پکایا جاتا ہے، تاکہ پانی میں ان کا ذائقہ شامل ہو جائے ساتھ ہی ان سبزیوں اور چکن کو ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ سوپ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اس لیے  سوپ میں وٹامن، معدنیات ، ریشہ اور پروٹین وافر مقدار میں موجود ہے جو اسے ایک مکمل، طاقت ور توانائی فراہم کرنے والی غذا بناتا ہے۔

سوپ کی ایک شکل یخنی بھی ہے، جسے عموماً ہڈیوں اور گرم مسالوں کے ہمراہ تیار کیا جاتا ہے۔ سوپ کی طرح یخنی بھی موسم سرما اور کمزور اور بیمار و بزرگ افراد کے لیے  اپنے اندر فوائد کا خزانہ رکھتی ہے، یہ قوت مدافعت بڑھا کر سینہ، پسلیاں مضبوط کر کے نمونیا سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے، کیوں کہ ہڈیوں کا لعاب شامل ہونے کی وجہ سے یخنی میں فاسفورس اور کیلشم کا خزانہ موجود ہوتا ہے۔

یخنی بڑھتی عمر کے اثرات کے ساتھ سرطان، دل کے امراض ، ہڈیوں اور پٹھوں کے امراض و درد سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ بے خوابی کی شکایت رفع کرتی ہے۔ خلیات کی از سر نو تعمیر اور مرمت کا کام انجام دے کر جسم کو توانائی اور قوت عطا کرتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ سوپ اور یخنی کا استعمال موسم سرما میں خصوصیت کے ساتھ کرکے اس کے فوائد سے فائدہ اٹھائیں۔

Loading...

Comments are closed.