بھارت میں پرتشدد مظاہرے بے قابو، ہلاکتیں 21 ہوگئیں

زیادہ ہلاکتیں ریاست اترپردیش میں ہوئیں جہاں 8 سالہ لڑکے سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے،ریاست کے تمام اسکول بند رکھنے کا حکم۔ فوٹو: سوشل میڈیا

مزید خبریں

نئی دہلی / نیویارک / اسلام آباد: بھارت میں شہریت (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف جاری پرتشدد مظاہرے بے قابو ہوتے جارہے ہیں جب کہ تشدد،پولیس فائرنگ اور بھگدڑ کے باعث تاحال 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اپنے وزرا کیساتھ سر جوڑ کے بیٹھ گئے اور نئی دہلی میں خصوصی اجلاس طلب کر لیا، زیادہ ہلاکتیں ریاست اترپردیش میں ہوئیں جہاں جمعرات سے شروع ہونے والے مظاہروں میں آٹھ سالہ لڑکے سمیت 15 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

آئی جی (لا اینڈ آرڈر) پروین کمار نے بتایا کہ  نے بتایا کہ لکھنؤ میں انٹرنیٹ معطل رہے گا، مظاہرین کی ریاست بھر میں متعدد مقامات پر پولیس سے جھڑپیں ہوئیں،مظاہرین نے  پتھراؤ اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا، میرٹھ ضلع سے چار کانپور اور بجنور سے ایک ایک ہلاکت کی اطلاع ملی، وارانسی میں بھگدڑ میں آٹھ سالہ بچہ ہلاک ہوگیا جب پولیس کے ذریعہ ایک پرتشدد ہجوم کا پیچھا کیا جارہا تھا۔ اس کے علاوہ، سنبھل اور فیروز آباد میں بھی تشدد نے ایک کی جان لے لی،ہسپتال میں داخل کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

اتر پردیش میں شہری حقوق کے لیے سرگرم افراد نے بتایا کہ پولیس نے ان کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارے تاکہ وہ نئے احتجاج کی منصوبہ بندی نہ کر سکیں، ہفتے کو نئی احتجاجی لہر شروع ہونے کے بعد انتظامیہ نے ریاست کے تمام سکول بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

راشڑیہ جنتا دل کی جانب سے متنازع بل کے خلاف ’’بہار بند‘‘ مظاہروں کے دوران ہفتہ کے روز بہار میں ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی اور سڑکیں بند ہوگئیں،آر جے ڈی نے سڑکیں بند کرنے کیلئے بھینسوں کا استعمال کیا، بٹھنڈا میں مسلمانوں اور سکھوں نے متنازع بل کے خلاف مشترکہ احتجاجی مارچ کیا ، اور مطالبات کی یادداشت ڈپٹی کمشنر بٹھنڈا کو پیش کی،ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامے اور اس ایکٹ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ، ہزاروں مظاہرین ہزاری رتن چوک کے قریب جمع ہوئے اور ضلعی انتظامیہ کمپلیکس تک احتجاجی مارچ کیا، موجودہ مظاہروں کو بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کے لیے تاحال سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق ان مظاہروں سے سب سے متاثر بھارت کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش ہے، انڈیشن نیشنل کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتاپارٹی طلباء، نوجوانوں سمیت شہریوں کی آواز کودبانے کیلئے ان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہے۔

بھارتی حکومت کے سرکاری محکمہ اطلاعات کے ملازمین بھی سرکاری ٹویٹر اکاونٹ سے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہے ہیں۔

ملیشیا کے وزیراعظم مہاترمحمد نے بھی بھارت کے شہریت کے ترمیمی بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے خلاف امتیازات پر مبنی ہے 70 برسوں سے سب ہندوستانی مل کر رہ رہے ہیں تو شہریت ترمیمی قانون کیا ضرورت تھی۔ اس قانون کی وجہ سے کئی لوگ مارے جارہے ہیں، اس قانون سے یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی بھارت کو ہندو راشٹریہ بنانا چاہتے ہیں اور 20 کروڑ مسلمانوں کو نکالنا چاہتے ہیں جو ہندوستان کی مجموعی آبادی کا 14 فیصد ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے نیویارک میں معمول کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ بھارت میں شہریت کے امتیازی قانون کے خلاف ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں پرتشدد واقعات پرتشویش ہے جن میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

 

Loading...

Comments are closed.