‘امریکی فوجیوں کے اڈوں پر باغیوں کے حملے روکے جائیں’

مزید خبریں

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے فوجی اڈوں پر حملے روکیں جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

یہ بات پیر کے روز عراقی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔

اس قبل امریکہ کے اعلیٰ فوجی افسران نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی طرف سے عراق میں موجود ایسے فوجی اڈوں پر کیے جانے والے حملوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

گذشتہ چند ہفتوں سے ایسے فوجی اڈوں پر ہونے والے راکٹ حملوں میں شدت آئی ہے جہاں امریکی فوجیوں کی قیادت میں اتحادی فوجیں موجود ہیں۔ کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تاہم امریکہ کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاعات اور راکٹوں کے فررنزک تجزیے سے اشارے ملتے ہیں کہ یہ حملے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ مسلمان ملیشیا کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم عبدالمہدی کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع ایسپر نے عراقی وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بات چیت کے دوران عراقی وزیر اعظم نے امریکی وزیر دفاع کو خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے اس سلسلے میں کسی بھی ممکنہ یک طرفہ کارروائی کے منفی نتائج برآمد ہوں گے اور اس سے عراق کی خود مختاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

عبدالمہدی نے ملک میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں استعفیٰ دے دیا تھا اور اب وہ عبوری وزیر اعظم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر تیل کی تنصیبات، گولہ بارود کے ذخیروں اور ان فوجی اڈوں پر حملوں کے الزامات لگائے ہیں جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔

Loading...

Comments are closed.