صرف 9 ڈالر چرانے کے جرم میں 38 سال سے قید امریکی

ولی سائمنز صرف نو ڈالر چرانے کے پاداش میں گزشتہ 32 برس سے امریکی جیل میں قید ہیں (فوٹو: این بی سی)

مزید خبریں

البامہ: بظاہر یہ بیان ناقابلِ یقین لگتا ہے لیکن شاید امریکا کے کچھ علاقوں کا نظام لاقانونیت سے بھرپور ہے۔ خبر یہ ہے کہ صرف 9 ڈالر چوری کرنے والا شخص 25 سال کی عمر میں گرفتار ہوا اور اب 62 سال کی عمر میں بھی وہ سلاخوں کے پیچھے ہے۔

ولی سائمنز کا تعلق الابامہ سے ہے اور ریاست کے ایک کالے قانون ’ ہیبیچوئل آفنڈرلا‘ کے شکار ہوئے اور ان پر صرف نو ڈالر چرانے کا الزام ہے۔ ان کی تمام تفصیلات ٹویٹر پر شیئر ہوئیں تو پتا چلا ورنہ ولی کی افسوس ناک کہانی شاید ہی کبھی سامنے آسکتی۔

امریکی خبر رساں ادارے نے اپنے صحافی بیتھ شیلبرن کی ٹویٹس شیئر کی ہیں جس میں تین عشروں سے قید کے شکار وِلی کی تفصیلات پڑھی جاسکتی ہیں۔

ٹویٹ کے مطابق وہ 25 سال کی عمر میں قید ہوئے اور 1982ء سے انہیں پیرول پر رہائی نہیں مل سکی۔ ان پر چوری شدہ جائیدار خریدنے کا بھی الزام تھا جس پر وہ پہلے ہی سزا پاچکے تھے لیکن ولی کو یاد نہیں ان کے جرائم کیا کچھ ہیں مگروہ اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ان سے کوئی جرم سرزد ضرور ہوا ہے۔ ان کے مطابق انہوں ںے ایک شخص کے بٹوے سے 9 ڈالر چرائے تھے۔

ان کی بہن کے انتقال کے بعد 2005ء سے ولی سے کوئی ملنے بھی نہیں آتا اور اسے امریکا کی سب سے خوفناک جیل میں رکھا گیا ہے جہاں عادی مجرم آپس میں لڑتے رہتے ہیں اسے جنگلی جیل بھی کہا جاتا ہے۔

Loading...

Comments are closed.