2020ء صدر ٹرمپ کے مالی معاملات کی چھان بین کا سال؟

امریکی سپریم کورٹ 2020 کے دوران متوقع طور پر کئی مقدمات کا فیصلہ سنائے گی جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹرمپ آرگنایزیشن کے مالی ریکارڈز کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ان ریکارڈز کا مطالبہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کر رکھا ہے، جو صدر ٹرمپ کے خلاف بدعنوانی اور امریکی صدارتی انتخاب میں غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

سال 2019 کے دوران متعدد عدالتی مقدمات سامنے آئے جن میں کانگریس اور نیو یارک کے تفتیشی اہلکاروں کی طرف سے سمن جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے مالی ریکارڈز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

آئیندہ برس 2020 میں سپریم کورٹ میں ان میں سے تین مقدمات کی سماعت ہوگی جن کیلئے دلائل دینے کا سلسلہ مارچ میں شروع ہوگا۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں صدارتی سیاست کے پروفیسر ٹاڈ بیلٹ کا کہنا ہے کہ اس کا درحقیقت مطلب یہ جاننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پیسے کہاں ہیں اور ان کے پاس کل کتنی دولت موجود ہے اور ان کے خود کو دیوالیہ قرار دینے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جاننے کی کوشش کرنا ہے کہ وہ کاروبار کس انداز میں چلاتے ہیں اور یہ کہ کیا وہ امریکی عوام کے ساتھ ایماندار اور راست گو ہیں یا نہیں۔

حزب مخالف کی ڈیموکریٹک پارٹی طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کے ٹیکس ریٹرنز کا مطالبہ کرتی رہی ہے، تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ غیر ملکی فریقین کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے مفادات کے ٹکراؤ کے زمرے میں تو نہیں آتے، کیا انہوں نے ٹیکس ادا کرنے کے حوالے سے دھوکہ دیا اور کیا انہوں نے 2017 کی ٹیکس اصلاحات کے منصوبے سے فائدہ تو نہیں اٹھایا۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کہتی ہیں کہ صدر ٹرمپ ہر صورت اپنے ٹیکس ریٹرنز دکھائیں۔‘‘

دریں اثنا، مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ واشنگٹن میں واقع ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل انسداد رشوت ستانی اور اجرتوں کی شق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

ایڈووکیسی گروپ پبلک سٹیزن سے وابستہ، رابرٹ وائزمین کہتے ہیں کہ سعودی عرب ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل میں ایک بڑی تقریب منعقد کر رہا ہے، تاکہ صدر ٹرمپ یہ جان لیں کہ اس نے یہ تقریب وہاں منعقد کی ہے۔ اس سے یہ تشویش پیدا ہوتی ہے جیسے امریکی آئین تیار کرنے والوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ غیر ملکی حکومتیں تحائف پیش کر کے صدر سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

صدر ٹرمپ نے منصب صدارت سنبھالتے ہی روایت کو توڑتے ہوئے خود کو اپنے کاروبار سے الگ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے منصب صدارت کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا اور وہ اپنی جائیداد کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

اس سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران ٹرمپ کی ذاتی جائیدادوں پر صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کیلئے 12 کروڑ 50 لاکھ کا چندہ اکٹھا کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے منصب صدارت کے دوران اپنے سیاسی فائدے کیلئے اپنی جائیدادوں کو استعمال کرنے سے مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے اور انہیں اس سے اجتناب کرنا چاہئیے۔ تاہم، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے ہوٹل ہر جگہ موجود ہیں اور لوگ انہیں استعمال کرتے ہیں، کیونکہ وہ بہترین ہوٹل ہیں۔

ستمبر میں ناقدین نے نائب صدر پینس پر آئرلینڈ کے سرکاری دورے کے دوران صدر ٹرمپ کے ریزارٹ میں ٹھہرنے کو بھی ہدف تنقید بنایا تھا۔

فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کا ذاتی ریزارٹ

تاہم، صدر ٹرمپ نے اس سال اکتوبر میں شدید دباؤ کے تحت 2020 کا G-7 اجلاس اپنے میامی ریزارٹ میں منعقد کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اسی ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ وہ اخلاقی اقدار سے متعلق تشویش کے باعث واشنگٹن میں واقع ٹرمپ ہوٹل کے لیزنگ کے حقوق فروخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ ہوٹل ایک ایسی عمارت میں ہے جو جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کی ملکیت ہے۔ اس کی فروخت سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ پبلک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے روڈی مہربانی کا کہنا ہے کہ اس وقت وائٹ ہاؤس اور جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ یوں اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ذاتی مفاد کے تحت ایسا کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے نومبر میں ایک مقدمے کے تصفیے کیلئے 20 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی۔ اس مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی چیریٹی کی طرف سے جمع کی گئی رقم صدارتی مہم کیلئے ناجائز طور پر استعمال کی۔

Loading...

Comments are closed.