روس میں گرفتار مبینہ امریکی جاسوس کی نظر بندی میں توسیع

مزید خبریں

روس میں جاسوسی کے الزام کا سامنا کرنے والے سابق امریکی میرین پال وھیلن کے مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل ایک روسی عدالت نے ان کی حراست میں 29 مارچ تک توسیع کر دی ہے۔

وھیلن کو 2018 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے ایک جاننے والے شخص سے ایک فلیش ڈرائیو وصول کی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس فلیش ڈرائیو میں ممکنہ طور پر چھٹیوں کے دوران لی گئی تصاویر تھیں۔ تاہم، روسی حکام کا کہنا تھا کہ اس میں خفیہ معلومات موجود تھیں۔

روس میں امریکہ کے نائب سفیر بارٹ گورمین نے روس کے لیفورٹووو جیل میں وھیلن سے پیر کے روز ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ان کے ہمراہ کنیڈا، آئرلینڈ اور برطانیہ کے سفارتکار بھی موجود تھے۔ وھیلن ان تینوں ممالک کی شہریت بھی رکھتا ہے۔

امریکی نائب سفیر کورمین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ پال کو ’’رنگے ہاتھوں‘‘ پکڑا گیا تھا، ناجائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس کے لگ بھگ ایک سال بعد بھی تحقیقات کاروں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔ اس کا کیس بہت زیادہ طوالت اختیار کر چکا ہے اور اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہ نہ تو شفاف ہے اور نہ ہی منصفانہ۔

وھیلن نے خود پر لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے اور اس نے تفتیش کے دوران جیل کے اہلکاروں اور روسی خفیہ سروس کی طرف سے برا سلوک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ روس نے وھیلن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اگر وھیلن کو جاسوسی کے جرم میں سزا ہو جاتی ہے تو اسے ممکنہ طور 10 سے 20 سال روسی جیل میں گزارنے پڑیں گے۔

Loading...

Comments are closed.