نیتن یاہو کی پوزیشن مضبوط مگر رکاوٹیں ابھی باقی

مزید خبریں

اسرائیل میں آج جمعے کے روز لیکھوڈ پارٹی کے ابتدائی انتخابات کے اعلان کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یوں، اگرچہ ان کی پوزیشن مستحکم ہو گئی ہے، تاہم انہیں اپنا اقتدار برقرار رکھنے اور کرپشن کے الزامات پر تحقیقات سے بچنے کیلئے آئندہ سال مارچ میں ہونے والے قومی انتخابات بھاری اکثریت سے جیتنا ہوں گے۔

نیتن یاہو نے جمعرات کے روز پارٹی کے اندرونی انتخابات میں اپنے حریف اور سابق وزیر گیڈین سار کو واضح برتری سے شکست دی۔ انہوں نے اس انتخاب میں 72 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

پارٹی انتخاب کے بعد نیتن یاہو نے آج جمعے کے روز رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت متحد رہنے کا ہے، تاکہ لیکھوڈ پارٹی کو انتخاب میں بھاری اکثریت حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے انتخاب میں لوگوں نے ان پر بھاری انداز میں اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

پارٹی کے نتخاب میں کل 116,000 ارکان میں لگ بھگ نصف نے ووٹنگ میں حصہ لیا جس کی ایک بڑی وجہ خراب موسم قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم، اس انتخاب میں انہوں نے نیتن یاہو کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

تاہم، مارچ میں نیتن یاہو کو کہیں بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا، جب ایک سال کے اندر تیسری مرتبہ ووٹنگ ہوگی۔ اس سے قبل اپریل اور ستمبر میں ہونے والی ووٹنگ کے بعد نیتن یاہو حکومت نہیں بنا سکے تھے۔

اس وقت ان کیلئے خطرات پہلے سے زیادہ ہیں۔ ان پر گذشتہ ماہ رشوت ستانی، فراڈ اور اعتماد کو دھوکہ دینے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یوں، ان کیلئے ان الزامات کی تحقیقات سے بچنے کا واحد راستہ پارلیمان میں 61 سیٹوں کے ساتھ اکثریت حاصل کرنا ہے۔ اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں پارلیمان انہیں اس تحقیقات سے استثنا دے سکتی ہے۔

ہاریٹز اخبار میں چھپنے والے ایک مضمون میں تجزیہ کار یوسی ورٹر کہتے ہیں کہ یہ اسرائیل کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے جب وزارت عظمیٰ کے کسی امیدوار کو باقاعدہ الزامات کا سامنا ہے اور وہ اپنے لیے استثنا کی درخواست کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ صورت حال کو اپنے حق میں تبدیل کر سکیں۔

اس سال ستمبر میں ہونے والے انتخاب میں نیتن یاہو کی لیکھوڈ پارٹی اور بلو اینڈ وائٹ پارٹی میں سے کوئی بھی واضح برتری حاصل نہیں کر پائی تھی۔ بلو اینڈ وائٹ پارٹی کے لیڈر سابق فوجی چیف آف سٹاف بینی گانٹز ہیں۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی امیدوار حلیف جماعتوں کے ساتھ مل کر بھی اکثریت ثابت نہیں کر سکا تھا۔ اس کے بعد ایک قومی حکومت کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ لیکن بلو اینڈ وائٹ پارٹی کے لیڈر بینی گرانٹز نے ایک ایسے امیدوار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس پر باقاعدہ الزامات عائد کیے جا چکے ہوں۔

عوامی جائزوں سے اشارہ ملتا ہے کہ مارچ میں ہونے والے انتخاب میں بھی صورت حال لگ بھگ یہی رہے گی۔

درایں اثنا، اسرائیل کی سپریم کورٹ آئندہ ہفتے اس بارے میں فیصلہ دینے والی ہے آیا ایسا اامیدوار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کی اہلیت رکھتا ہے جسے باقاعدہ الزامات کا سامنا ہو۔

Loading...

Comments are closed.