سندھ میں گیس بحران کی ذمہ دار صوبائی حکومت یا وفاق؟

مزید خبریں

وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے سندھ میں گیس بحران کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ حکومت نئی دریافت شدہ گیس فیلڈز سے لائن بچھانے کے لیے زمین فراہم کرنے سے انکاری ہے جبکہ صوبائی حکومت مائع گیس خریدنے کو بھی تیار نہیں۔

کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں گیس بحران کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ صوبائی حکومت دو گیس فیلڈز سے لائن بچھانے کے لیے رائٹ آف وے فراہم نہیں کر رہی۔ جس کے سبب لائنیں بچھانے کا کام مکمل نہیں ہو پایا اور سندھ میں گیس کا بحران بھی ختم نہیں ہو رہا۔

ان کے بقول گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے زمین فراہم نہ کرکے حکومت سندھ صوبے کے عوام سے زیادتی کر رہی ہے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اپنےفیصلےکی سزا عوام کو نہ دے۔

وفاقی وزیر کے مطابق سندھ حکومت آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت اپنی ضرورت کے لیے ایل این جی خریدنے اور درآمد کرنے کی بھی مجاز ہے لیکن اس کے لیے بھی صوبائی حکومت تیار نظر نہیں آتی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گیس کا بحران حل کرنے کے لیے حکومت دن رات کام کر رہی ہے اور رواں سال گیس کی فراہمی میں 12 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

‘وفاقی حکومت غلط بیانی کر رہی ہے’

سندھ میں برسر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے۔

وفاقی وزیر عمر ایوب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامی اور نا اہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے غلط بیانی کر رہی ہے۔ رائٹ آف وے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یا کسی بھی وفاقی ادارے نے ان کے محکمے سے رابطہ ہی نہیں کیا۔

امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل دو گیس فیلڈز کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلا کر فوری اجازت دلوائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود گیس بحران کا شکار ہے۔

امتیاز شیخ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 158 میں جس صوبے سے گیس نکلتی ہے اس کا پہلا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ گیس بحران پر بار بار وفاقی حکومت کی توجہ مبذول کرائی جاتی رہی لیکن وہاں سے کوئی مثبت رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔

ان کے بقول ہم نے وفاق کو با رہا تعاون کی پیشکش کی مگر وفاق نے ہماری پیشکش کو نظر انداز کیا۔

صوبائی وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ ایل این جی یا مائع گیس ان صوبوں کو دی جائے جہاں قدرتی گیس نہیں نکلتی۔ سندھ 70 فیصد قدرتی گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔ ہم صوبے کے عوام کو ایل این جی خرید کر مزید مہنگی گیس کیوں دیں۔

گیس بحران کی شدت میں اضافہ

ادھر گیس پریشر میں کمی کے باعث سندھ میں تقریبا دو ہفتے سے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند ہے جس کے باعث کراچی میں سی این جی پر چلنے والی 70 فیصد پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔

دوسری جانب سی این جی اسٹیشنز کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور ان اسٹیشنز پر دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدور کام نہ ملنے سے پریشان ہیں۔

پاکستان میں اب تک گیس کے سب سے زیادہ ذخائر سندھ سے ہی دریافت ہوئے ہیں جب کہ سندھ سے یومیہ تقریبا 2400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا ہوتی ہے۔

دسمبر کے مہینے میں سندھ بھر میں کئی شہروں اور قصبوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے مطابق اس وقت سسٹم میں 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی کمی ہے جس میں سے 60 ملین کیوبک فٹ کی کمی موجودہ ذخائر میں کمی اور 20 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سالانہ طلب بڑھنے کے باعث ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق سندھ میں دریافت ہونے والی دو نئی رحمان گیس فیلڈ اور عائشہ گیس فیلڈ سے پائپ لائن بچھانے کا کام تو جاری ہے تاہم رائٹ آف وے نہ ملنے کے باعث یہ سست روی کا شکار ہے۔

Loading...

Comments are closed.