ایم کیو ایم کے لیے بلاول کی پیشکش قبول کرنا آسان نہیں ہوگا: تجزیہ کار

مزید خبریں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ وفاق میں تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دے تو پیپلز پارٹی اسے سندھ حکومت میں نمائندگی دینے کو تیار ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘گرا دو، گرا دو، عمران کی حکومت کو۔ جتنی وزارتیں ایم کیو ایم کے پاس وفاق میں ہیں، اتنی ہم اُنہیں دینے کے لیے تیار ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں کو آج نہیں تو کل یہ فیصلہ کرنا ہی پڑے گا کہ ملک کی بقاء کو ممکن بنایا جاسکے۔

اگرچہ ایم کیو ایم کی جانب سے اس تجویز پر فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا لیکن ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ امیدیں پوری ہوتی نظر نہیں آرہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تحریک انصاف کی کارکردگی خراب رہی ہے اور کراچی میں وفاقی حکومت نے ترقیاتی کام کرانے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

تاہم تجزیہ کاروں کی رائے میں اب تک ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے اس پیشکش کا مثبت جواب دیا جائے۔

جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور معروف تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں گزشتہ چند برسوں میں خلیج اس قدر بڑھی ہے کہ ان کے لیے فی الحال وفاق کی حمایت چھوڑ کر پیپلز پارٹی کا حامی بننا آسان نہیں ہو گا۔

توصیف احمد کے بقول، ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے۔ اس کا سارا انحصار راولپنڈی سے آنے والی پالیسیوں پر ہے۔ اسی پالیسی کی بنیاد پر وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ بنی۔ اگرچہ گزشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان ایم کیو ایم کو ہی پہنچایا۔

توصیف احمد کے مطابق "مجھے نہیں لگتا کہ بلاول بھٹو کی اس پیشکش کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوگا۔ ایم کیو ایم تحریک انصاف کی اتحادی ہے ۔ وہ اتحادی رہے گی۔”

ماضی میں بھی متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی کئی بار اتحادی جماعت بن کر حکومت کا حصہ رہی ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم پر بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا جاتا رہا وہیں ایم کیو ایم پیپلز پارٹی پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کرتی رہی ہیں۔

ایم کیو ایم کی جانب سے یہ مطالبہ شدت سے کیا جاتا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سندھ کے جنوبی حصوں پر مشتمل ایک الگ صوبہ بنایا جائے جس سے پیپلز پارٹی ہمیشہ انکار کرتی رہی ہے۔ اور اس مطالبے کی شدید مذمت کرتی آئی ہے۔

Loading...

Comments are closed.