تضحیک سے اجتناب برتیے! – ایکسپریس اردو

مذاق اڑانے کی قرآن و حدیث میں ممانعت: یہ رویّہ اس قدر ناپسندیدہ ہے کہ اﷲ نے اس کو بہ راہ راست موضوع بنایا ہے۔

مزید خبریں

مذاق کے لبادے میں لپٹے ہوئے طنز نہ جانے کتنے افراد کی زندگی بھر کی خوشیاں چھین چکے ہیں۔ ایک مسلمان پر جس طرح دوسرے مسلمان کی جان اور اس کے مال کو نقصان پہنچانا حرام ہے، اسی طرح اس کی عزت اور آبرو پر حملہ کرنا بھی قطعاً ناجائز ہے۔

عزت و آبرو کو نقصان پہنچانے کے کئی طریقے ہیں۔ ان میں ایک کسی کا مذاق اڑانا ہے۔ مذاق اڑانے کا عمل دراصل کسی بھی انسان کی عزت و آبرو پر بہ راہ راست حملہ اور اسے نفسیاتی طور پر مُضطرب کرنے کا ایک اقدام ہے۔ اس تضحیک آمیز رویّے کے دنیا اور آخرت دونوں میں بہت منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔ چناں چہ باہمی کدورتیں، رنجشیں، لڑائی جھگڑا، انتقامی سوچ، بدگمانی، حسد اور سازشیں زندگی کو جہنّم بنا دیتے ہیں۔ دوسری جانب اس رویّے کا حامل شخص خدا کی رحمت سے محروم ہوکر ظالموں کی فہرست میں چلا جاتا، اپنی نیکیاں گنوا بیٹھتا اور آخرت میں سزا کا حق دار ہوجاتا ہے۔

٭ مذاق اڑانے کی قرآن و حدیث میں ممانعت: یہ رویّہ اس قدر ناپسندیدہ ہے کہ اﷲ نے اس کو بہ راہ راست موضوع بنایا ہے۔ مفہوم: ’’اے ایمان والو! نہ مَردوں کی کوئی جماعت دوسرے مَردوں کا مذاق اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں۔‘‘ (سورہ الحجرات)

مذاق اڑانا کسی شخص کی تحقیر کرنا اور اسے بے عزت کرنا ہے۔ اسی لیے روایات میں کسی کی آبرو کو نقصان پہچانے کی واضح الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت ہے کہ سرور عالمؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’جو کوئی کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرے گا تو اس پر اﷲ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے، اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوگی۔‘‘ (صحیح بخاری)

مذاق اڑانے کا عمومی مقصد کسی عام و خاص شخص کی تحقیر کرنا اور اسے کم تر مشہور کرنا ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے تکبّر کا رویہ کار فرما ہے۔ دوسری جانب تکبّر کی قرآن و حدیث میں سخت الفاظ میں مذمت بیان ہوئی ہے۔

عبداﷲ بن مسعوؓد سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبّر ہوگا، وہ جنّت میں نہیں جائے گا۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتے بھی اچھے ہوں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبّر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کم تر سمجھنے کو کہتے ہیں۔‘‘ ( صحیح مسلم) ایک اور روایت میں بھی اس رویّے کی بالواسطہ مذمّت بیان ہوئی ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’تم لوگ ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور نہ ہی تناجش کرو (تناجش کاروبار کی ایک قسم ہے) اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رُوگردانی کرو اور تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور اﷲ کے بندو! بھائی بھائی ہوجاؤ، مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے۔ آپؐ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا، تقویٰ یہاں ہے۔ کسی آدمی کے بُرا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پُورا پُورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔‘‘ (صحیح مسلم)

مذاق اڑانے کا منطقی نتیجہ کسی شخص کی دل آزاری کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس ایذا رسانی کی بھی ان الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ عبداﷲ بن عمروؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذاء نہ پائیں۔‘‘ ( صحیح بخاری: جلد اول)

٭ نبی کریمؐ کا مزاح : آپؐ اپنے اصحابؓ اور ازواجؓ سے مزاح کیا کرتے تھے۔ اس بات سے ان خشک مزا ج اہل علم کے اس نظریے کا انکار ہوتا ہے، جس کے تحت وہ حضرات مباح مذاق کو بھی ایک شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں۔ نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ سے مذاق کے تمام حدود و قیود کا علم اور تعین ہوتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’ میں نے نبی کریمؐ کو کبھی سارے دانت کھول کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپؐ کا حلق نظر آنے لگے، بل کہ آپؐ صرف تبّسم فرماتے تھے۔‘‘ (بخاری )

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ قہقہہ لگانا ممنوع ہے لیکن بہ ہر حال ایک سنجیدہ مزاج شخص کو ٹھٹھے مار کر ہنسنا زیب نہیں دیتا۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ سے صحابہؓ نے کہا کہ اے اﷲ کے رسولؐ آپؐ ہم سے خوش طبعی کی باتیں کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: (لیکن) میں حق بات ہی کہتا ہوں۔ (ترمذی) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مذاق میں بھی کوئی جھوٹ، فحش یا غیر اخلاقی بات کرنا جائز نہیں اور جو بات ہو، وہ حق ہو۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرمؐ سے سواری طلب کی تو آپؐ نے (مذاق میں) اس سے کہا کہ میں تو تمہیں اونٹ کا بچہ دوں گا۔ اس شخص نے کہا میں اونٹ کے بچے کا کیا کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا: ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔ (ترمذی)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ نے حضرت انسؓ کو کہا: ’’یاذوالاذنین‘‘ یعنی اے دو کانوں والے۔ (ترمذی) کیوں کہ ہر شخص کے دو کان ہوتے ہیں، اس لیے اس میں تحقیر بھی نہیں اور تفنن طبع بھی ہے۔

حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت آپؐ کے پاس آئی اور جنّت میں داخلے کی دعا کی درخواست کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ بوڑھی عورت جنّت میں داخل نہیں ہوسکتیں۔ وہ روتی ہوئی واپس جانے لگی تو آپؐ نے کہا کہ اس سے کہہ دو کہ وہ جنّت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہیں ہوگی، بل کہ اﷲ تعالیٰ سب اہلِ جنّت عورتوں کو نوعمر کنواریاں بنا دیں گے اور حق تعالیٰ کی اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ ہم نے ان (جنّتی) عورتوں کو خاص طرز پر بنایا ہے کہ وہ کنواری ہیں۔‘‘ (شمائل ترمذی)

کچھ لوگ بہت حسّاس ہوتے ہیں، ان سے بات چیت کرتے وقت اور خاص طور پر مذاق کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے کیوں کہ یہ بھی کوئی اچھا رویّہ نہیں کہ ہماری کسی جائز بات سے بھی بلاوجہ ہمارے بھائی کو تکلیف پہنچے۔

Loading...

Comments are closed.