کینیا میں امریکہ کے فوجی مرکز پر الشباب کا حملہ

مزید خبریں

صومالیہ کے ایک عسکری گروپ الشباب نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کے روز ایک فوجی مرکز پر حملہ کیا جو امریکہ اور کینیا کی فورسز کے زیر استعمال ہے۔

امریکی فوج کی افریقہ کمانڈ نے کہا ہے کہ ابتدائی رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی مرکز کے ڈھانچے اور ساز و سامان کو نقصان پہنچا ہے اور صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

کینیا اور صومالیہ کی سرحد پر واقع ایک ساحلی قصبے لامو میں قائم فوجی مرکز سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اس مرکز میں امریکہ اور کینیا کے فوجی تعینات ہیں۔

افریقہ کی امریکی فوجی کمانڈ اے ایف آر آئی کام کے ایک بیان میں یہ تصدیق کی گئی ہے کہ فوجی مرکز میں کچھ آلات کو نقصان پہنچنے کے بعد ان سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

لامو کاؤنٹی کے کمشنر ارونگو ماچاریا نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک علاقے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکا۔

کمشنر کا کہنا ہے کہ فوجی مرکز پر چار سے پانچ حملے ہوئے۔ ہمارے عہدے دار صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک علاقہ اتنا محٖفوظ نہیں کہ ہم وہاں جا سکیں۔ لیکن حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

الشباب کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمپ کے کچھ حصے اس کے کنٹرول میں ہیں اور حملے میں کچھ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کینیا کی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے حملہ آوروں کا جواب دیا ہے اور چار عسکریت پسند مار ے گئے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس کی آنکھ دھماکوں سے کھلی اور اس کے بعد کئی گھنٹوں تک گولیوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔

اس نے بتایا کہ دھماکے چار بجے کے قریب ہوئے۔ اس کے بعد آگ کے شعلے اور گہرا دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ پھر کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر آٹھ بجے کے قریب توپیں چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ اسی دوران میں نے ایک جہاز کو کچھ گراتے ہوئے دیکھا۔ غالباً وہ بم تھے۔

اس نے بتایا کہ علاقے میں سیکیورٹی اہل کاروں کی بھاری موجودگی ہے اور وہ لوگوں سے ان کی شناخت طلب کر رہے ہیں۔

نیروبی کے ایک سیکیورٹی ایکسپرٹ رچرڈ ٹوٹا نے کہا ہے کہ الشباب گروپ امریکہ اور ایران کے تنازع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ الشباب نے جب یہ دیکھا کہ ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کے خلاف بغداد میں بڑا مظاہرہ ہوا ہے تو اس نے بین الاقوامی سطح پر آنے کے لیے امریکی فوجی کیمپ پر حملہ کیا، حالانکہ اسے معلوم ہے کہ اس لڑائی میں ان کا نقصان ہی نقصان ہے، لیکن وہ بین الاقوامی خبروں میں آنا چاہتا ہے۔

اس علاقے میں گزشتہ پانچ برسوں سے لڑائیاں ہو رہی ہیں۔

الشباب گروپ یہاں کینیا کی سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف حملے کرتا رہا ہے۔

Loading...

Comments are closed.