ناسا خلا میں ہونے والے پہلے جرم کی تفتیش کرے گا

تصویر میں خلانورد این مک کلین نمایاں ہیں جنہوں نے خلا سے اپنے سابقہ شوہر کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات تک رسائی حاصل کی تھی اور سابقہ شوہر نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ فوٹو: ناسا

مزید خبریں

 واشنگٹن: ناسا نے کہا ہے کہ وہ خلا میں ہونے والے پہلے مبینہ جرم کی تحقیقات کرے گا جس میں ایک خاتون خلانورد نے خلا سے اپنے سابقہ شوہر کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

تفصیلات کےمطابق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں اپنے معمول کے مشن کے دوران ایک خاتون خلانورد این مک کلین نے انٹرنیٹ سے اپنے سابقہ شوہر کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی تھی۔ اگرچہ این نے اس کا اعتراف کیا ہے لیکن وہ بضد ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام یا جرم نہیں کیا ہے۔ تاہم اب وہ زمین پر واپس لوٹ آئی ہیں۔

خاتون خلانورد کے سابقہ شوہر سمر وورڈن نے  فیڈرل ٹریڈ کمیشن میں ایک شکایتی درخواست دائر کی ہے۔ دوسری جانب خاتون نے زمین پر پہنچنے کےبعد اپنے وکیل سے  جواب داخل کرایا ہے کہ وہ محض یہ جاننا چاہتی تھیں کہ خاندان کے مالی معاملات درست رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا سابقہ شوہر اور وہ طلاق ہونے کے باجود مشترکہ طور پر بیٹے کی پرورش کررہے ہیں جس کے لیے دونوں مالی تعاون کرتےہیں۔

این نے کہا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور وہ ہر طرح سے تعاون کررہی ہیں۔ این مک لین نے سال 2014 میں امریکی فضائیہ کے انٹیلی جنس افسر سمرورڈن سے شادی کی تھی  اور 2018 میں دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ناسا کے اراکین نے دونوں سے تفتیش کی ہے۔

این مک کلین کا تعلق بھی امریکی فضائیہ سے ہے اور وہ 800 گھںٹوں کی جنگی پروازیں عراق میں کرچکی ہیں اور 2013 میں وہ ناسا کی ٹیسٹ پائلٹ بنی تھیں۔

کیا خلا پر زمینی قانون کا اطلاق ہوگا؟

خلا میں کئے گئے پہلے مبینہ جرم کے متعلق یہ بات اہم ہے کہ آیا زمینی قوانین کا اطلاق خلا پر ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی تعمیر میں اس وقت امریکا، کینیڈا، جاپان، روس اور دیگر یورپی ممالک کے ماہرین مشترکہ کام کررہے ہیں۔ اس تناظر میں کوئی قانونی ڈھانچہ تیار کیا جاتا ہے تو وہ خلا میں لوگوں اور اسٹیشن پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد کینیڈا کا کوئی خلانورد خلا میں کوئی جرم کرتا ہے تو وہ کینیڈا کے قوانین کے تحت برتا جائے گا۔ اسی طرح امریکہ یا روس کے خلانوردوں کے جرائم کا فیصلہ بھی ان کے متعلقہ ممالک کے تحت ہی کیا جائے گا۔ لیکن آج نہیں تو کل ان قوانین پر غور کرنا ہوگا کیونکہ خلائی سیاحت اب بہت دور نہیں ۔ اس وقت عام افراد بھی خطیر رقم خرچ کرکے خلا میں جاسکیں گے۔

Loading...

Comments are closed.